اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

دنیا بھر میں ہر 9 میں سے ایک شخص آلودہ خوراک کھانے کے باعث بیمار ہوتا ہے

datetime 24  جون‬‮  2026 |

مکو آ نہ(این این آئی)ماہرین نے عوامی صحت کے تحفظ کے لیے محفوظ خوراک کی فراہمی کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں تقریبا 866 ملین افراد یعنی ہر نو میں سے ایک شخص آلودہ خوراک کھانے کے باعث بیمار ہوتا ہے

جبکہ سالانہ 15 لاکھ 20 ہزار افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے پاک کوریا نیوٹریشن سینٹر، نیوٹریشن انٹرنیشنل اور پنجاب فوڈ اتھارٹی کے تعاون سے منعقدہ ورلڈ فوڈ سیفٹی ڈے 2026 سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ فیکلٹی آف فوڈ، نیوٹریشن اینڈ ہوم سائنسز کے ڈین ڈاکٹر عمران پاشا نے کہا کہ خوراک کا تحفظ عوامی صحت اور غذائی تحفظ کا بنیادی ستون ہے۔ انہوں نے خوراک کے معیار کی نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے، بین الاقوامی فوڈ سیفٹی معیارات کو اپنانے اور خوراک کی ترسیل کے تمام مراحل میں سائنسی شواہد پر مبنی اقدامات کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ پاک کوریا نیوٹریشن سینٹر کے سینٹرل پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر عاطف رندھاوا نے کہا کہ پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک خوراک سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا زیادہ بوجھ برداشت کر رہے ہیں، جس کی بڑی وجوہات غیر معیاری غذائی ہینڈلنگ، ناقص صفائی کے انتظامات اور عوامی آگاہی کی کمی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاک کوریا نیوٹریشن سنٹر خوراک کے تحفظ اور بہتر غذائیت کے فروغ کے لیے استعداد کار بڑھانے، تحقیق اور کمیونٹی آگاہی پروگراموں کے ذریعے اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔

پالیسی چیئر ڈاکٹر آصف کامران نے کہا کہ ملک میں خوراک سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی شرح کم کرنے کے لیے مضبوط فریم ورک اور فوڈ سیفٹی تعلیم میں سرمایہ کاری ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ محفوظ خوراک کا آغاز آگاہی اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل سے ہوتا ہے۔ ڈاکٹر اللہ رکھا نے خوراک میں آلودگی کے خطرات کی نشاندہی اور ان کے موثر تدارک کے لیے سائنسی تحقیق اور جدید جدتوں کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ مثر نگرانی کے نظام، صارفین میں آگاہی مہمات اور جدید فوڈ سیفٹی ٹیکنالوجیز کا استعمال خطرات کو کم کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی کی ماسٹر ٹرینر ڈاکٹر عائشہ بتول نے شرکا کو پنجاب فوڈ اتھارٹی کی جانب سے خوراک کے معیار اور صارفین کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔ نیوٹریشن انٹرنیشنل کے زونل مینیجرز محمد عرفان اور مظفر علی نے خوراک کے تحفظ، غذائیت اور عوامی صحت کے درمیان گہرے تعلق کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ محفوظ اور غذائیت سے بھرپور خوراک غذائی قلت کے خاتمے اور معاشروں کی صحت و پیداواری صلاحیت میں اضافے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…