اسلام آباد(نیوز ڈ یسک)اکثر یہ مشاہدہ کیا جاتا ہے کہ کچھ لوگوں کو مچھر بار بار کاٹتے ہیں جبکہ بعض افراد نسبتاً کم متاثر ہوتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس فرق کے پیچھے کئی حیاتیاتی، جینیاتی اور ماحولیاتی عوامل کارفرما ہوتے ہیں، یہ محض اتفاق نہیں ہوتا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف مادہ مچھر انسانوں کو کاٹتی ہیں کیونکہ انہیں انڈے دینے کے عمل کے لیے خون درکار ہوتا ہے۔ مچھر اپنے شکار کو پہچاننے کے لیے مختلف اشاروں کا استعمال کرتے ہیں، جن میں سب سے اہم سانس کے ذریعے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ ہے۔تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ وہ افراد جو زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتے ہیں، جیسے زیادہ متحرک لوگ، حاملہ خواتین یا زیادہ وزن رکھنے والے افراد، مچھروں کے لیے زیادہ پرکشش ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ انسانی جسم کی مخصوص بو بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جلد سے خارج ہونے والے بعض کیمیائی مادے مچھروں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں، جس کی وجہ سے کچھ لوگ زیادہ نشانہ بنتے ہیں۔جینیاتی عوامل بھی اس معاملے میں اثر انداز ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق مچھر کے کاٹنے کی طرف رجحان کسی حد تک موروثی ہوتا ہے، جبکہ خون کے بعض گروپس، خاص طور پر او گروپ رکھنے والے افراد میں یہ رجحان زیادہ دیکھا گیا ہے۔طرزِ زندگی اور ماحول بھی اس فرق کو متاثر کرتے ہیں۔
جسمانی سرگرمی کے بعد پسینہ آنا، جسم کا درجہ حرارت بڑھنا، شراب نوشی اور گہرے رنگ کے کپڑے پہننا مچھروں کو زیادہ متوجہ کر سکتے ہیں۔ماہرین یہ بھی بتاتے ہیں کہ بعض افراد کے جسم سے ایسے کیمیائی مادے خارج ہوتے ہیں جو مچھروں کو دور رکھتے ہیں، اسی لیے ہر شخص پر مچھر کے کاٹنے کا اثر مختلف ہوتا ہے۔مجموعی طور پر دیکھا جائے تو مچھر کے کاٹنے کی شدت اور تعداد ایک پیچیدہ عمل کا نتیجہ ہے، جس میں جسمانی کیمسٹری، جینیات اور ماحول سب مل کر کردار ادا کرتے ہیں، اسی لیے ہر فرد کا تجربہ مختلف ہوتا ہے۔



















































