اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

دنیا بھر میں ایک ارب سے زائد لوگ ذہنی امراض کا شکار ہیں، ڈبلیو ایچ او

datetime 3  ستمبر‬‮  2025 |

نیویارک(این این آئی)عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)نے انکشاف کیا ہے کہ دنیا بھر میں ہونے والی ہر 100 اموات میں سے ایک سے زائد کی وجہ خودکشی ہے، جو ایک بڑا عوامی صحت کا بحران بنتا جا رہا ہے۔تازہ اعداد و شمار کے مطابق صرف سال 2021 میں تقریبا 7 لاکھ 27 ہزار افراد نے خودکشی کی، جبکہ ہر ایک خودکشی کے مقابلے میں 20 بار کوشش کی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اموات نہ صرف متاثرہ افراد کی زندگی ختم کرتی ہیں بلکہ ان کے اہلِ خانہ اور دوست احباب کو بھی شدید صدمات سے دوچار کرتی ہیں۔ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ کے مطابق خودکشی دنیا بھر میں نوجوانوں کی اموات کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔ 15 سے 29 سال کی لڑکیوں میں یہ موت کی دوسری بڑی وجہ اور لڑکوں میں تیسری بڑی وجہ ہے۔

سال 2000 سے 2021 تک دنیا میں خودکشی کی شرح میں 35 فیصد کمی ضرور ہوئی، لیکن ادارے کے مطابق یہ رفتار ناکافی ہے۔ 2015 سے 2030 تک خودکشی کی شرح میں ایک تہائی کمی کا ہدف مقرر تھا، مگر موجودہ پیش رفت کے مطابق صرف 12 فیصد کمی ہی ممکن ہو سکے گی۔رپورٹ کے مطابق زیادہ تر خودکشیاں غریب اور متوسط آمدنی والے ممالک میں ہوتی ہیں، لیکن امیر ممالک میں آبادی کے تناسب سے یہ شرح کہیں زیادہ ہے۔ صرف امریکی خطے میں 21 سال کے دوران خودکشی کی شرح 17 فیصد بڑھ گئی۔

ؤماہرین نے خبردار کیا کہ اگرچہ مجموعی طور پر شرح میں کمی آئی ہے لیکن ذہنی امراض جیسے ڈپریشن اور تنا تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ اس وقت دنیا بھر میں ایک ارب سے زائد لوگ ذہنی امراض کا شکار ہیں۔ ڈبلیو ایچ او نے سوشل میڈیا کے اثرات اور کووڈ-19 وبا کے نتائج کو نوجوانوں میں ذہنی دبا بڑھنے کی بڑی وجوہات قرار دیا ہے۔ڈبلیو ایچ او کا کہنا تھا کہ حکومتیں ذہنی صحت پر توجہ نہیں دے رہیں، کیونکہ دنیا بھر میں صحت کے بجٹ کا صرف 2 فیصد ذہنی صحت کے لیے مختص ہے، اور ڈپریشن کے شکار صرف 9 فیصد افراد کو ہی علاج میسر ہے۔ ادارے کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہانوم نے کہا کہ ذہنی صحت کی سہولیات کو بہتر بنانا آج کے دور کا سب سے بڑا عالمی چیلنج ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…