ڈاکٹرعطاالرحمن نے پاکستان میں کرونا کی نئی قسم کی موجودگی کاامکان ظاہرکردیا

  جمعہ‬‮ 2 جولائی‬‮ 2021  |  23:43

کراچی (این این آئی)کرونا ٹاسک فورس کے سربراہ ڈاکٹر عطا الرحمن نے کہا ہے کہ پاکستان میں قوی امکان ہے کہ کرونا وائرس کا نیا ڈیلٹا ویرینٹ پہنچ چکا ہو ،تاہم ابھی تک اس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔خصوصی گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بہت ممکن ہے کہ یورپ سےکرونا کا نیا ڈیلٹا ویرینٹ پاکستان پہنچ چکا ہو۔ برطانیہ اور بھارت میں یہ ویرینٹ تیزی سے پھیل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کرونا وائرس کی خاصیت یہ ہے کہ یہ سب سے زیادہ مہلک قسم جلدی چھاجاتی ہے تاہم ابھی تک پاکستان میں الفا ویرینٹ رہا۔ڈاکٹرعطا الرحمن نے


بتایا کہ کراچی یونیورسٹی میں کرونا وائرس کے ویرینٹ سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ڈیلٹا ویرینٹ کے علاوہ ڈیلٹا پلس ،ایپسلون ویرینٹ سمیت کئی دیگر ویرینٹ سامنے آئے ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ ابھی ڈیلٹا اور ڈیلٹا پلس ویرینٹ خطرناک ثابت ہوئے ہیں۔ ڈاکٹرعطا الرحمن نے کہاکہ کرونا ویکسین ایک حد تک ان ویرینٹ سے بچاتی ہیں اور کوشش کی جارہی ہے کہ زیادہ بہتر ویکسین تیار کی جائے۔انھوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ کرونا وائرس کی مزید لہر آسکتی ہے اور اس سے نبٹنا اہم ہوگا۔ حکومت روزانہ کی بنیاد پر کرونا کے پھیلائو کے عمل کی نگرانی کررہی ہے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

دو ہزاربچوں کا محسن

چترال کے دو حصے ہیں‘ اپر چترال اور لوئر چترال‘ دونوں اضلاع الگ الگ ہیں‘ لوئر چترال دریا کے کنارے آباد ہے اور وادی نما ہے جب کہ اپر چترال پہاڑوں پر چپکے‘ لٹکے اور پھنسے ہوئے دیہات کی خوب صورت ٹوکری ہے‘ ہم اتوار کی صبح اپر چترال کے ضلعی ہیڈ کوارٹر بونی کے لیے روانہ ہوئے‘ سفر مشکل ....مزید پڑھئے‎

چترال کے دو حصے ہیں‘ اپر چترال اور لوئر چترال‘ دونوں اضلاع الگ الگ ہیں‘ لوئر چترال دریا کے کنارے آباد ہے اور وادی نما ہے جب کہ اپر چترال پہاڑوں پر چپکے‘ لٹکے اور پھنسے ہوئے دیہات کی خوب صورت ٹوکری ہے‘ ہم اتوار کی صبح اپر چترال کے ضلعی ہیڈ کوارٹر بونی کے لیے روانہ ہوئے‘ سفر مشکل ....مزید پڑھئے‎