کھانسی کی دوا نے چند ہی منٹوں میں تین بہن بھائیوں کی جان لے لی

  ہفتہ‬‮ 22 مئی‬‮‬‮ 2021  |  21:33

ملتان (این این آئی)ملتان میں دو روز کے دوران تین بہن بھائی جعلی ڈاکٹر کی دوا سے چل بسے۔ملتان کے علاقے حامد پور کنورہ کا رہائشی خادم حسین اپنے بچوں کی کھانسی کی دوا لینے ہومیو پیتھک ڈاکٹر کے پاس گیا اور بچوں کو دوا کھلائی، دوا کھاتے ہی تینوں بچوں کی حالت بگڑ گئی، چند منٹوں میں ہی 7 سالہ طاہرہ دم توڑ گئی9 سالہ دانش نشتر ہسپتال کے راستے میں اور 5 سالہ منیب ہسپتال میں دم توڑ گیا۔ تینوں بچوں کی موت سے بچوں کی ماں سمیرا کی گود خالی ہو گئی۔ چیف ایگزیکٹیو ہیلتھ ڈاکٹر شعیب


الرحمان کے مطابق ہومیو پیتھک ڈاکٹر کو گرفتار کر لیا گیا ہے ، کلینک سیل اور دوائیاں قبضہ میں لے کر پی۔ ایم۔ ڈی۔ سی ایکٹ 28 ون اے ، دفعہ 419 اور 420 کے تحت کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔دوسری جانب تینوں بچوں کا نشتر اسپتال میں پوسٹ مارٹم مکمل کر کے معدے کے اجزاء پنجاب فورنزک لیب بھجوا دیے گئے ہیں۔جعلی ڈاکٹر کا کلینک پنجاب ہیلتھ کئیر کمیشن سے 2018ء سے لائسنس یافتہ ہے، کلینک کے ریکارڈ کے مطابق خادم حسین نے ہومیو ڈاکٹر سے دوا نہیں لی اور نہ ہی محکمہ صحت کی ٹیموں کو تفتیش کے دوران خادم حسین کے گھر سے کوئی ایسی دوا یا ڈاکٹر کا نسخہ ملا۔ بچوں کی موت کے حقائق پوسٹ مارٹم رپورٹ اور پولیس تفتیش میں سامنے آئیں گے۔وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے واقعے کا نوٹس لے لیا اور کہا کہ غیر معیاری دوائی دینے والے جعلی کو گرفتار کر کے کلینک سیل کردیا گیا ہے۔ ملتان میں دو روز کے دوران تین بہن بھائی جعلی ڈاکٹر کی دوا سے چل بسے۔ملتان کے علاقے حامد پور کنورہ کا رہائشی خادم حسین اپنے بچوں کی کھانسی کی دوا لینے ہومیو پیتھک ڈاکٹر کے پاس گیا اور بچوں کو دوا کھلائی، دوا کھاتے ہی تینوں بچوں کی حالت بگڑ گئی


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

دو ہزاربچوں کا محسن

چترال کے دو حصے ہیں‘ اپر چترال اور لوئر چترال‘ دونوں اضلاع الگ الگ ہیں‘ لوئر چترال دریا کے کنارے آباد ہے اور وادی نما ہے جب کہ اپر چترال پہاڑوں پر چپکے‘ لٹکے اور پھنسے ہوئے دیہات کی خوب صورت ٹوکری ہے‘ ہم اتوار کی صبح اپر چترال کے ضلعی ہیڈ کوارٹر بونی کے لیے روانہ ہوئے‘ سفر مشکل ....مزید پڑھئے‎

چترال کے دو حصے ہیں‘ اپر چترال اور لوئر چترال‘ دونوں اضلاع الگ الگ ہیں‘ لوئر چترال دریا کے کنارے آباد ہے اور وادی نما ہے جب کہ اپر چترال پہاڑوں پر چپکے‘ لٹکے اور پھنسے ہوئے دیہات کی خوب صورت ٹوکری ہے‘ ہم اتوار کی صبح اپر چترال کے ضلعی ہیڈ کوارٹر بونی کے لیے روانہ ہوئے‘ سفر مشکل ....مزید پڑھئے‎