اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

10 سال سے کم عمر بچوں سے کورونا پھیلنے کا امکان کیوں کم ہوتا ہے ، طبی ماہرین کا چونکا دینے والا انکشاف

datetime 2  مئی‬‮  2021 |

واشنگٹن(این این آئی)10 سال سے کم عمر بچوں میں نہ صرف کووڈ 19 کا خطرہ کم ہوتا ہے بلکہ ان سے وائرس کے آگے پھیلنے کا امکان بھی بہت کم ہوتا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔طبی جریدے جرنل آف امریکن میڈیا ایسوسی ایشن میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ 9 سال کی عمر تک کے بچوں سے وائرس کے پھیلائو کا خطرہ بہت کم ہوتا ہے۔

تاہم 10 سے 19 سال کی عمر کے بچوں اور نوجوانوں میں تعلیمی اداروں میں کووڈ سے متاثر ہونے کا خطرہ گھر میں رہنے والوں کے مقابلے میں 3 گنا زیادہ ہوتا ہے۔تحقیق میں اسرائیل کے اسکولوں کا جائزہ لیا گیا جہاں وبا کے باوجود ستمبر 2020 میں تعلیمی ادارے معمول کے مطابق کھل گئے تھے، تام اکتوبر میں کیسز زیادہ ہونے پر ایک ماہ کے لیے بند کردیئے گئے تھے۔تحقیق میں اگست کے آخری ہفتے سے دسمبر تک بیماری کی شرح کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا اور اس کا موازنہ لاک ڈائون کے دوران کیسز کی شرح سے کیا گیا۔‎ محققین نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ اسکولوں میں کورونا وائرس کے کیسز کی شرح کیا ہے اور اس مقصد کے لیے 0 سے 9 سال اور 10 سے 19 کے 2 گروپس پر توجہ مرکوز کی گئی۔انہوں نے 9 سال کی عمر کے 47 ہزار سے زیادہ جبکہ 10 سے 19 سال کی عمر کے ایک لاکھ ایک ہزار سے زیادہ افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا۔محققین نے دریافت کیا کہ 9 سال کی عمر کے تک کے بچوں میں بیماری کی شرح اسکول میں حاضری کے دوران کیسز کی شرح بہت کم تھی۔انہوں نے کہا کہ ڈیٹا کے تجزیے سے عندیہ ملتا ہے کہ اس عمر کے بچوں میں نہ صرف کووڈ کیسز کی شرح بہت کم تھی بلکہ ان سے وائرس کے پھیلا ئوکا امکان بھی بہت کم ہوتا ہے۔اس کے مقابلے میں دریافت کیا گیا کہ 10 سے 20 سال کی عمر کے بچوں اور نوجوانوں سے وائرس کے آگے پھیلا کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔تحقیق کے مطابق اس عمر کے گروپ کے حوالے سے زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے اور ویکسینیشن کی جانی چاہیے۔ماہرین کا کہنا تھا کہ بظاہر 9 سال کی عمر تک کے بچوں کو فیس ماسک اور سماجی دوری کی ضرورت نہیں تاہم اس حوالے سے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ 10 سے 19 سال کی عمر کے گروپ سے وائرس کے پھیلا کا امکان زیادہ ہوتا ہے تو ان سے تعلیمی اداروں میں بیماری پھیلنے کا امکان کچھ زیادہ ہوسکتا ہے۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…