اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان میں عالمی معیارکے وینٹی لیٹر نہیں بن رہے ،اہم حکومتی شخصیت کا اعتراف

datetime 26  اپریل‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سینیٹرشبلی فراز نے انکشاف کیاہے کہ پاکستان میںعالمی معیارکے وینٹی لیٹر نہیں بن رہے ہیں،مقامی وینٹی لیٹر کارآمد نہیں 16میں سے صرف 4 فنگشنز پر پورا اترتاہے ،کورونا ایمرجنسی کیلئے آکسیجن اور ضروری اسٹاک موجود نہیں ہے،اسٹیل ملز کے آکسیجن پلانٹ ہنگامی طور پر

فعال کرنے میں بھی مسائل ہیں۔سوموار کووفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سینیٹرشبلی فراز نینسٹ یونیورسٹی کا دورے کے دورا ن میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ آج نسٹ یونیورسٹی کے دورے کا موقع ملا ، نسٹ یونیورسٹی کا عالمی اور ملکی سطح پر عملی میدان میں حصہ ہے، ہمیں دیکھنا ہے کہ ہماری یونیورسٹیوں کا عوام کی زندگی پر کتنا اثر ہے،ہم نے نسٹ یا باقی یونیورسٹیوں کا انڈسٹری کے ساتھ لنک بنانا ہے،یونیورسٹی صرف ڈگری نہیں بلکہ ہنر بھی دیں تاکہ یونیورسٹیوں کا ملکی ترقی میں بھی حصہ ہواورطلبہ کو روزگار بھی ملے، حکومت کا کام صرف روزگار دینا نہیں ہوتا،حکومت کا کام ایساماحول بنانا ہوتا ہے جس سے عوام کو روزگار کے مواقع فراہم ہوں۔ہمیں لوکل وسائل کا استعمال کرتے ہوئے ملک کو آگے لے کر جانا ہے۔سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہمارے پاس کورونا ایمرجنسی کیلئے آکسیجن اور ضروری اسٹاک موجود نہیں ہے این آر ٹی سی اور پرائیویٹ فرمز وینٹی لیٹرز بنا رہی ہیں لیکن ہمارے وینٹیلیٹرز 16 میں سے صرف 4 فنکشنز پر پورا اترتے ہیںوزیر صنعت و پیداوار سے اسٹیل ملز کے آکسیجن پلانٹ سے متعلق بات ہوئی ہے اسٹیل ملز سے آکسیجن ہنگامی طور پر فعال کرنے میں وقت لگے گا اگر جلدفعال ہوجائے تو اچھی بات ہے لیکن لگتا ہے کہ اس میں مسائل ہیں۔سینیٹرشبلی فراز نے کہا کورونا سے نبردآزما ہونے کے لیے ہم سے جو بھی بھارت کے لیے ہوسکا ضرور کریں گے یہ انسانیت کا مسئلہ ہے بھارت کے ساتھ پوری ہمدردیاں ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…