اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت میں ہر ایک منٹ میں کورونا کے 243 نئے کیسز سامنے آنے لگے، آکسیجن کی شدید قلت کے باعث ڈاکٹرز اور طبی عملہ بے بس

datetime 25  اپریل‬‮  2021 |

نئی دہلی(آن لائن ) بھارت میں کورونا کی نئی ہلاکت خیز لہر کو کورونا سونامی کہا جا رہا ہے جس میں ہر ایک منٹ میں 243 نئے کیسز اور ہر چار منٹ میں ایک موت واقع ہورہی ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق کورونا وائرس نے صحت کے نظام کو مفلوج کردیا ہے، آکسیجن کی شدید قلت کے باعث ڈاکٹرز اور طبی عملہ خود کو بے بس

محسوس کر رہا ہے جب کہ ماہرین نے اس لہر کو کورونا سونامی سے تعبیر کیا ہے۔ اسپتال موت، بے بسی اور لاچارگی کی تصویر بن گئے ہیں، باہر فٹ پاتھوں پر بھی ادھ موئی سانس لیے مریض بستر کی امید میں دم توڑ رہے ہیں۔ مریضوں کی تڑپ اور لواحقین کی مدد کی دہائیوں سے فضا سوگوار ہے۔ اس انسانی المیے نے سب کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ مسلسل چوتھے روز بھی کورونا کے نئے کیسز کا ریکارڈ ٹوٹ گیا۔ صرف ایک منٹ میں 243 کورونا کے نئے مریض اور ہر 4 منٹ میں ایک مریض کی موت واقع ہو رہی ہے۔ شمشان گھاٹ اور قبرستان میں بھی اپنے پیاروں کی آخری رسومات کے لیے لواحقین قطاروں میں لگے ہیں۔ عالمی برادری نے اس مشکل گھڑی میں بھارت کی ہر ممکن امداد کی پیشکش کی ہے، سعودی عرب اور سنگاپور کی جانب سے آکسیجن گیس بھیجی جارہی ہے جب کہ پاکستان نے بھی پڑوسی ملک کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ بھارت میں کورونا کی نئی ہلاکت خیز لہر کو کورونا سونامی کہا جا رہا ہے جس میں ہر ایک منٹ میں 243 نئے کیسز اور ہر چار منٹ میں ایک موت واقع ہورہی ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق کورونا وائرس نے صحت کے نظام کو مفلوج کردیا ہے، آکسیجن کی شدید قلت کے باعث ڈاکٹرز اور طبی عملہ خود کو بے بس محسوس کر رہا ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…