اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

کورونا کا خطرہ، عمران خان نریندر مودی کے نقش قدم پر نہ چلیں، ماہرین کا انتباہ

datetime 25  اپریل‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی)ماہرین نے کہا ہے کہ کورونا کا خطرہ، عمران خان نریندر مودی کے نقش قدم پر نہ چلیں۔ ماہرین کے مطابق وزیر اعظم عمران خان اگر نریندر مودی کی طرح کورونا کی پہلی لہر پر فتح کے شادیانے ہی بجاتے رہے تو بھارت کی طرح پاکستان میں بھی صورتحال خوفناک و دل خراش ہو سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق

بھارت نے رواں سال فروری مارچ میں کورونا کا پھیلاؤ روکنے کا نادر موقع گنوایا، بھارتی وزیر اعظم نے فخر سے دنیا کو بتایا کہ بھارت کورونا کو شکست دے چکا ہے۔بھارتی پارلیمنٹ میں کورونا کو شکست پر قرارداد بھی منظور کی گئی، اسی خوش فہمی میں دوسری کورونا لہر کے دوران بھارت میں سیاسی جلسوں اور کمبھ میلے کی کھلی آزادی رہی۔کچھ اسی طرح پاکستان میں بھی ہوا، گزشتہ برس نومبر، دسمبر میں کورونا کی دوسری لہر کے دوران باتیں زیادہ اور عمل کم ہوا، بازاروں، بس اڈوں، ریستورانوں، منڈیوں اور مارکیٹوں معمولات نام نہاد احتیاطی تدابیر کے ساتھ جاری رہے۔پہلی لہر پر فتح اور اسمارٹ لاک ڈاؤن کے شادیانے بجائے گئے، پھر دوسری اور پھر تیسری نے پاکستان کو آڑے ہاتھوں لیا۔کورونا وائرس کی دوسری اور تیسری لہر کے دوران پہلی لہر جیسا لاک ڈاؤن اور احتیاطی اقدامات کہیں بھی دیکھنے کو نہ ملے۔جون 2020 میں یومیہ کورونا کیسز کی تعداد تقریباً سات ہزار تک پہنچ گئی، وزیر اعظم عمران خان نے ملک میں دوسری بار لاک ڈاؤن کو خارج از امکان قرار دیا۔دوسری لہر کے دوران گزشتہ سال 24 دسمبر کو ملک میں سب سے زیادہ اموات ایک سو گیارہ ہوئیں، ملک میں کورونا کی تیسری لہر یو کے سٹرین سب سے مہلک ثابت ہوئی۔اسلام آباد اور دیگر شہروں میں آکسیجن کی کمی مریضوں اور لواحقین کے لیے کسی آفت ناگہانی سے کم نہیں، ماہرین کا کہنا ہے پاکستان کو بھارت جیسے جان لیوا خطرے سے نمٹنے کے لیے فوری پیشگی اقدامات کرنا ہوں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…