جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

ملک میں آکسیجن کی قلت کی خبریں، آکسیجن ڈیلرزنے حقائق سامنے رکھ دیے

datetime 24  اپریل‬‮  2021 |

کراچی(این این آئی) میڈیکل آکسیجن ڈیلرز نے کہا ہے کہ لاہور اور اسلام آباد میں آکسیجن کی طلب میں اضافہ ہوا ہے تاہم ملک بھر میں صورتحال کنٹرول میں ہے اور کسی شہر میں آکسیجن کی سپلائی میں تعطل کا کوئی فوری خدشہ نظر نہیں آرہا ۔ڈیلرز کے مطابق پاکستان میں آکسیجن کی فراہمی کا کوئی مسئلہ نہیں تاہم سلنڈرز کی دستیابی

کو خدشات کا سامناہے۔ کرونا کی لہر کے دوران بڑے پیمانے پر شہریوں نے اپنے گھروں میں آکسیجن سلنڈرز رکھنا شروع کردیے ہیں جس سے سلنڈرز کی قلت کا سامنا ہے، ہسپتالوں میں یہ سلنڈرز خالی ہوکر دوبارہ ڈیلرز کے پاس آتے ہیں لیکن گھروں کے علاوہ ہسپتالوں میں بھی سلنڈرز کا اسٹاک رکھا جارہا ہے۔آکسیجن کے ڈیلرعمیر نے بتایا کہ پاکستان میں آکسیجن سلنڈرز کی درآمد پر بھاری ٹیکس اور ڈیوٹی عائد ہے جس کی وجہ سے سلنڈرز کی درآمد محدود ہوگئی ہے ایک سلنڈر پر لگ بھگ تین ہزار سات سو پچاس روپے کے ٹیکس امپورٹ کی سطح پر وصول کیے جاتے ہیں اور کورونا کی وبا کے باوجود یہ ٹیکس ختم نہیں کیے گئے ایک کنٹینر جس میں 400 سلنڈرز آتے ہیں 15 لاکھ روپے کی ڈیوٹی اور ٹیکس ادا کرنے کلیئر کرایا جاتا ہے جو موجودہ حالات میں ختم ہونا چاہیے۔ڈیلرز کے مطابق اس وقت مارکیٹ میں آکسیجن سلنڈر کی ری فلنگ معمول کے مطابق جاری ہے اس وقت 55 کیوبک فٹ آکسیجن کی ری فلنگ 400 روپے، 120 کیوبک فٹ کی ری فلنگ 1200 روپے جبکہ 240 کیوبک فٹ آکسیجن کی ری فلنگ 1800 روپے میں کی جارہی ہے البتہ سلنڈرز کی قیمتوں میں کرونا کی وبا سے دگنا اضافہ ہوچکا ہے ۔ اس وقت 55 کیوبک فٹ کا سلنڈر 10 ہزار روپے میں فروخت ہورہا ہے، 110 کیوبک فٹ کا

سلنڈر 15 ہزار روپے جبکہ 240 کیوبک فٹ کا سلنڈر 23 ہزار روپے میں فروخت ہورہا ہے۔ڈیلرزنے کہا کہ بھارت کی صورتحال اور پاکستان میں بڑھتے ہوئے کیسز کو مدنظر رکھتے ہوئے ضروری ہے کہ سلنڈرز کی خاطر خواہ تعداد میں دستیابی کو یقینی بنایا جائے ، حکومت سلنڈرز پر محصولات ختم کربھی دے تب بھی سلنڈرز درآمد کرنے میں ایک ماہ کا عرصہ لگے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…