اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

بھارتی سکھ یاتریوں کے قریب رہنے والے پاکستانی شہریوں میں کورونا کی تشخیص کا خدشہ

datetime 24  اپریل‬‮  2021 |

امرتسر ( آن لائن ) پاکستان میں بیساکھی میلے کے لیے 10 دن گزار کر واپس بھارت جانے والے سکھ یاتریوں کے ساتھ بھارت میں ناروا سلوک کیا جانے لگا ۔ جبکہ 200 یاتریوں کا ٹیسٹ بغیر کسی ثبوت کے ہی پازیٹو قرار دے دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق 800 سے زائد سکھ یاتری واہگہ بارڈر کے راستے بھارت پہنچے تو ان کا کورنا ٹیسٹ لیا

گیا۔بھارتی پنجاب کے چیف سرجن نے ان میں سے 200 سکھ یاتریوں کا ٹیسٹ پازیٹو قرار دے دیا تاہم جب رپورٹ طلب کی گئی تو سرجن نے کہا کہ یاتریوں نے رپورٹ پھاڑ دی ہے اور ریکارڈ بھی ضائع کردیا ہے۔ بھارتی سرجن کے اس مشکوک بیان پر بھارتی حکومت نے بھی اس معاملے کی مزید تحقیقات کا حکم دے دیا ہے جبکہ صدر پنجاب سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی بی بی جاگیر کور نے بھی کورونا رپورٹ کو مشکوک قرار دے دیا ہے۔دوسری جانب سکھ یاتریوں کے کورونا میں مبتلا ہونے کی خبروں کو پاکستان متروکہ وقف املاک بورڈ نے مضحکہ خیزقراردے دیا ہے۔ متروکہ وقف املاک بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹرعامراحمد نے اس حوالے سے کہا کہ سرحد پار کرتے ہی سکھ یاتریوں کا کورونا ٹیسٹ مثبت آنا سمجھ سے بالاترہے، تاہم دوسری طرف دس دن تک بھارتی سکھ یاتریوں کی خدمت کرنے والے متروکہ وقف کے افسروں ،ملازمین اورپاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے رہنمائوں کے کوروناٹیسٹ کروانے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔سکھ یاتریوں سے براہ راست رابطہ رکھنے والے تقریباً تین سو افراد کو آئسولیٹ کرنے کے احکامات بھی جاری کئے گئے ہیں، بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹرعامراحمد نے کہا کہ پاکستان آتے وقت تمام سکھ یاتریوں کے کورونا ٹیسٹ کیے گئے تھے

اور ان کے ہمراہ میڈیکل ٹیمیں رہیں۔ انہوں نے کہا کہ 200 سے زائد لوگوں کے کورونا میں مبتلا ہونے کی بات ٹھیک نظر نہیں آتی ، اگر اتنے لوگوں کو کورونا تھا تو کسی نہ کسی مرحلے پر معلوم ہوجاتا ، واپسی کے لیے کورونا ٹیسٹ کی شرط نہیں تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…