جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

کووڈ کے مریضوں کے دل کو براہ راست نقصان پہنچنے کا انکشاف

datetime 22  فروری‬‮  2021 |

لندن(این این آئی )نئے کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کے نتیجے میں ہسپتال میں زیرعلاج رہنے والے 50 فیصد سے زیادہ افراد میں ڈسچارج کے بعد دل کو نقصان پہنچنے کا انکشاف ہوا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں دریافت کی گئی۔لندن کالج یونیورسٹی کی اس تحقیق میں کووڈ 19 کے نتیجے میں سنگین حد تک بیمار ہوکر

لندن کے 6 ہسپتال میں زیرعلاج رہنے والے 148 مریضوں کو شامل کیا گیا تھا۔ان تمام مریضوں میں ایک پروٹین ٹروپونین کی سطح میں اضافے کو دیکھا گیا جو خون میں اس وقت خارج ہوتا ہے جب دل کے پٹھوں کو انجری کا سامنا ہوتا ہے۔تحقیق میں بتایا گیا کہ کووڈ 19 کے ہسپتال میں زیرعلاج رہنے والے بیشتر مریضوں میں اس وقت ٹروپونین کی سطح میں اضافے کو دیکھا گیا جب ان میں بیماری کی شدت بہت زیادہ بڑھ گئی اور جسم کی جانب سے بیماری کے خلاف مدافعتی ردعمل بہت زیادہ متحرک ہوگیا۔ان مریضوں کے ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے کم از کم ایک ماہ بعد دلوں کے ایم آر آئی اسکینز کیے گئے اور معلوم ہوا کہ 54 فیصد افراد کے دلوں کو نقصان پہنچا ہے۔اس نقصان میں دل کے پٹھوں میں ورم، ان پر خراشیں یا دل کے ٹشوز کا مردہ ہونا اور دل کی جانب سے خون کی سپلائی محدود ہونا شامل تھا۔کچھ مریضوں میں تینوں اقسام کے نقصان کا امتزاج بھی دیکھنے میں آیا۔محققین کا کہنا تھا کہ ٹروپونین کی سطح میں اضافے کووڈ 19 کے مریضوں میں بدترین نتیجے سے جڑا ہوا ہے، کووڈ سے بہت زیادہ بیمار ہونے والے افراد میں اکثر پہلے سے دل کی صحت سے جڑا طبی مسئلہ بشمول ذیابیطس، بلڈ پریشر میں اضافہ اور موٹاپا موجود ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کووڈ 19 کی سنگین شدت کے دوران بھی دل براہ راست متاثر ہوتا ہے، یہ وجہ بتایا مشکل ہے کہ دل کو نقصان کس طرح پہنچتا ہے مگر دل کے ایم آر آئی اسکینز سے مختلف اقسام کی انجریز کی شناخت ہوتی ہے، جس سے ہمیں زیادہ بہتر تشخیص اور مثر علاج کو ہدف بنانے میں مدد مل سکے گی۔تحقیق میں شامل مریضوں میں سے ایک تہائی آئی سی یو میں وینٹی لیٹر سپورٹ پر تھے۔کچھ مریضوں میں دل کے مسائل کووڈ 19 سے متاثر ہونے سے پہلے بھی موجود تھے مگر ایم آر آئی اسکینز سے ثابت ہوا کہ بیشتر میں یہ مسائل نئے اور ممکنہ طور پر کووڈ ہی اس کی وجہ تھی۔محققین نے بتایا کہ اہم بات یہ ہے کہ دل کو پہنچنے والے نقصان مختلف اقسام کا ہوتا ہے، جس سے عندیہ ملتا ہے کہ دل کو مختلف اقسام کی انجریز کا خطرہ ہوتا ہے، ہم نے دیکھا کہ دل کی انجری ایسے افراد میں بھی تھی جن کا دل اس سے قبل صحت مند تھا اور ان میں مسائل کو دیگر تیکنیکس سے پکڑا نہیں جاسکتا تھا۔انہوں نے بتایا کہ زیادہ سنگین کیسز میں یہ خطرہ بڑھتا ہے کہ یہ انجری بڑھ کر مستقبل میں ہارٹ فیلیئر کا باعث نہ بن جائے، مگر اس حوالے سے مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…