منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

ملک میں کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کی مجموعی شرح میں بڑا اضافہ، پشاور سب سے آگے

datetime 28  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی) ملک میں کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آنے کی مجموعی شرح 7.20 فیصد تک پہنچ چکی ہے،پشاور میں یہ شرح سب سے زیاہ یعنی 19.65 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ملک میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کا جائزہ لینے اور اس حوالے سے اقدامات اٹھانے کے لیے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا جس میں صوبائی چیف سیکریٹریز نے ویڈیو لنک کے

ذریعے شرکت کی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ کووِڈ ٹیسٹ مثبت آنے کی سب سے بلند شرح پشاور میں ہے اس کے بعد کراچی میں 17.73 فیصد، حیدرآباد میں 16.32 فیصد ہے۔اس کے علاوہ سندھ میں مجموعی طور پر یہ شرح 13.25 فیصد آزاد کشمیر میں 10.79 فیصد، خیبرپختونخوا میں 9.25 فیصد، بلوچستان میں 6.41 فیصد، اسلام آباد میں 5.84 فیصد، گلگت بلتستان میں 4.81 فیصد جبکہ پنجاب میں سب سے کم یعنی 3.59 فیصد ہے۔صوبوں کے لحاظ سے کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کی شرح کے مطابق پنجاب کے دارالحکومت لاہور 4.52 فیصد، راولپنڈی 11.49 فیصد،صوبہ سندھ کے دالحکومت کراچی 17.73 فیصد،حیدرآباد 16.32 فیصد،خیبر پختو خوا کے دارالحکومت پشاور 19.65 فیصد،بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ 9.77 فیصد،آزاد کشمیر کے ضلع میر پور 14.97 فیصد، مظفرآباد10.34 فیصد،گلگت بلتستان کے شہر گلگت 9.26 فیصد ہے،اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ وفاقی محکموں کے صحت کی رہنما ہدایات اور صحت کے پروٹوکولز پر عملدرآمد کے سلسلے میں علمائے کرام اور میرج ہالز ایسوسی ایشن کے ساتھ اجلاس ہوئے۔وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا کہ ہماری سب سے بڑی ذمہ داری عوام کا تحفظ اور صحت ہے اور وزارت صحت کی جانب سے وقتاً فوقتاً جاری کردہ تمام ہدایات پر عمل یقینی بنایا جائے۔اسد عمر نے کہا کہ بیماری کے ممکنہ پھیلاؤ کی نگرانی اور اندازہ بہت

اہم ہے اس سے کووِڈ کو قابو کرنے کی کوششوں کے لیے اقدامات میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ وفاقی محکموں نے مساجد میں اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز پرعملدرآمد اور علمائے کرام کے ذریعے وبا کے حوالے سے عوامی آگاہی اور اقدامات کے نفاذ کو سراہا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…