منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

ملک میں کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کی مجموعی شرح میں بڑا اضافہ، پشاور سب سے آگے

datetime 28  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی) ملک میں کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آنے کی مجموعی شرح 7.20 فیصد تک پہنچ چکی ہے،پشاور میں یہ شرح سب سے زیاہ یعنی 19.65 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ملک میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کا جائزہ لینے اور اس حوالے سے اقدامات اٹھانے کے لیے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا جس میں صوبائی چیف سیکریٹریز نے ویڈیو لنک کے

ذریعے شرکت کی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ کووِڈ ٹیسٹ مثبت آنے کی سب سے بلند شرح پشاور میں ہے اس کے بعد کراچی میں 17.73 فیصد، حیدرآباد میں 16.32 فیصد ہے۔اس کے علاوہ سندھ میں مجموعی طور پر یہ شرح 13.25 فیصد آزاد کشمیر میں 10.79 فیصد، خیبرپختونخوا میں 9.25 فیصد، بلوچستان میں 6.41 فیصد، اسلام آباد میں 5.84 فیصد، گلگت بلتستان میں 4.81 فیصد جبکہ پنجاب میں سب سے کم یعنی 3.59 فیصد ہے۔صوبوں کے لحاظ سے کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کی شرح کے مطابق پنجاب کے دارالحکومت لاہور 4.52 فیصد، راولپنڈی 11.49 فیصد،صوبہ سندھ کے دالحکومت کراچی 17.73 فیصد،حیدرآباد 16.32 فیصد،خیبر پختو خوا کے دارالحکومت پشاور 19.65 فیصد،بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ 9.77 فیصد،آزاد کشمیر کے ضلع میر پور 14.97 فیصد، مظفرآباد10.34 فیصد،گلگت بلتستان کے شہر گلگت 9.26 فیصد ہے،اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ وفاقی محکموں کے صحت کی رہنما ہدایات اور صحت کے پروٹوکولز پر عملدرآمد کے سلسلے میں علمائے کرام اور میرج ہالز ایسوسی ایشن کے ساتھ اجلاس ہوئے۔وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا کہ ہماری سب سے بڑی ذمہ داری عوام کا تحفظ اور صحت ہے اور وزارت صحت کی جانب سے وقتاً فوقتاً جاری کردہ تمام ہدایات پر عمل یقینی بنایا جائے۔اسد عمر نے کہا کہ بیماری کے ممکنہ پھیلاؤ کی نگرانی اور اندازہ بہت

اہم ہے اس سے کووِڈ کو قابو کرنے کی کوششوں کے لیے اقدامات میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ وفاقی محکموں نے مساجد میں اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز پرعملدرآمد اور علمائے کرام کے ذریعے وبا کے حوالے سے عوامی آگاہی اور اقدامات کے نفاذ کو سراہا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…