منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

اب مرض کا پتا لگانا نہایت آسان ، ماہرین نے آزمودہ طریقہ بتا دیا

datetime 9  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)لوگوں کے ہاتھوں کی حرکات کا انفرادی موٹر سگنیچر ( آئی ایم ایس) ہوتا ہے اور ان کا استعمال اس شخص کی انفرادی حیثیت کو ظاہر کرتا ہے۔ ان حرکات کا جائزہ لیتے ہوئے ہر شخص کی ذہنی و دماغی صحت یا پوشیدہ امراض کا پتا لگایا جاسکتا ہے۔ برطانیہ میں یونیورسٹی آف ایکسیٹر، برسٹل، مونٹ پولیئر، اور نیپلز فریڈرنے بہت سے لوگوں کی ہاتھوں کی حرکات کو

ان کی ڈجیٹل نقل یا اوتار کے ذریعے انجام دے کر ان کا مطالعہ کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق فنگر پرنٹ کی طرح ہر شخص کے ہاتھوں کی انفرادی حرکات یا آئی ایم ایس ہوتے ہیں جن کا دوسروں سے موازنہ کیا جاسکتا ہے۔ یہاں ڈجیٹل اوتار کا مطلب یہ ہے کہ مریض کی ہوبہو ڈجیٹل نقل کمپیوٹر پر تیار کرکے اسے سیمولیشن کے ذریعے دیکھا جاتا ہے اور ان کی حرکات کو نوٹ کرکے پڑھا جاتا ہے۔ یونیورسٹی آف ایکسیٹر کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر فرد کے ہاتھوں کی حرکات اور انداز مختلف ہوتا ہے۔ اس مطالعے کی تفصیلات رائل سوسائٹی کے جرنل ’انٹرفیس‘ میں شائع ہوئی ہیں جن سے ظاہر ہے کہ ہاتھوں کو گھمانے کی رفتار اور شدت مختلف انداز میں مختلف ہوتی ہے اس میں ہاتھوں کو ہلکے، تیز اور مدھم انداز سے حرکت دینے سے لوگوں کی شخصیات کے انداز کا جائزہ لینا ممکن ہوتا ہے اس میں ہاتھ گھمانے اور ہلانے کی رفتار کو ایک اہم جزو کے طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔ اس طرح بہت جلد انسانی ہاتھوں کی حرکات و سکنات اور ان سے وابستہ ذہنی امراض کو شناخت کرنا ممکن ہوجائے گا۔ یوں آٹزم اور شیزوفرینیا میں مبتلا لوگوں کے ہاتھوں کی حرکات کے مخصوص سگنیچرز کو پڑھ کر ان میں مرض اور اس کی شدت کا اندازہ لگانا ممکن ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…