منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

آکسفورڈ یونیورسٹی کی کورونا ویکسین کب تک تیار ہوکر مارکیٹ میں دستیاب ہوگی؟مریضوں کیلئے خوشخبری آگئی

datetime 8  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

لندن (این این آئی )برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی اور دوا ساز کمپنی آسترا زینیکا کی کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے ویکسین اگلے ماہ تک تیار ہوسکتی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ بات آسترا زینیکا کے چیف ایگزیکٹیو نے بتاتے ہوئے کہا کہ ان کی کورونا وائرس ویکسین دسمبر کے

آخر تک استعمال کے لیے تیار ہوگی ، جس کے لیے ریگولیٹری منظوری کا انتظار کیا جارہا ہے۔ انٹرویو میں چیف ایگزیکٹیو پاسکل سوریوٹ نے بتایا ریگولیٹری حکام مسلسل ہمارے ڈیٹا پر کام کررہے ہیں، اگر وہ ہمارے تیار ہونے پر تیزرفتاری سے کام کریں گے تو ہم لوگوں کو جنوری یا دسمبر کے آخر تک ممکنہ طور پر ویکسین فراہم کرنا شروع کردیں گے۔آکسفورڈ یونیورسٹی اور آسترازینیکا کی اس ویکسین کو کورونا وائرس کے علاج کے لیے چند بہترین کوششوں میں سے ایک قرار دیا جارہا ہے، جس کے لیے کئی ماہ سے کام جاری ہے۔پاسکل سوریوت کا کہنا تھا کہ اگرچہ ہم کبھی اس ویکسین سے کما نہیں سکیں گے، مگر ابھی کسی کو معلوم نہیں کہ لوگوں کو کب تک ویکسینیشن کی ضرورت ہوگی، اگر یہ ویکسین بہت موثر ہوئی اور لوگوں کو کئی برسوں تک تحفظ ملا، جس دوران یہ بیماری غائب ہوگئی تو پھر اس کی کوئی مارکیٹ نہیں ہوگی۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ بیشتر ماہرین کا ماننا ہے کہ لوگوں کو دوبارہ ویکسین کی ضرورت ہوگی، اگر ایسا سالانہ بنیادوں پر ہوا ہم اس ویکسین سے 2022 میں آمدنی حاصل کرنا شروع کردیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ مگر ہمیں اس سے پہلے یقین کرنا ہوگا کہ ویکسین واقعی کارآمد ہے۔کمپنی کے چین میں سربراہ لیون وانگ نے بتایا کہ چین میں اس ویکسین کے استعمال کی منظوری 2021 کے وسط میں دیئے جانے کا امکان ہے، جس کا انحصار ٹرائل کے پہلے اور دوسرے مرحلے میں محفوظ ہونے کے ڈیٹا اور تیسرے مرحلے میں اس کی افادیت کے ڈیٹا پر ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ چین میں ویکسین کے ٹرائلز کے لیے مقامی شراکت دار کی مدد لی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…