بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

سائنسدانوں نے کرونا وائرس کے پھیلا ئوکے آسان ذریعے کا پتہ چلا لیا

datetime 1  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

واشنگٹن(این این آئی) امریکا میں سائنس دانوں کا ایک گروپ اپنی تحقیق میں اس بات کا تعین کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے کہ کرونا وائرس انسان کے منہ اندر بآسانی کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق اس حوالے سے محققین نے بتایاکہ منہ کے اندر کا حصہ بالخصوص

لعاب کے غدود، زبان اور حلق کی کوڑیاں (گلٹیاں)ونا وائرس کے نمودار ہونے اور بعد ازاں پھیلنے کے بہترین مقامات ہیں۔محققین کے مطابق تھوک نگلنے سے یا اس کے براہ راست پھیپھڑوں میں داخل ہونے سے وائرس سے متاثر ہونے کے مواقع بڑھ جاتے ہیں۔اسی واسطے محققین نے ہدایت کی حفاظتی ماسک کا پہننا یقینی بنایا جائے۔ اس لیے کہ یہ کرونا وائرس کے پھیلنے اور متعدی وبا کے منتقل ہونے کو روکنے میں سب سے زیادہ کارگر اور موثر ہے۔ واضح رہے کہ یہ پہلی تحقیق ہے جس میں انسانی منہ کو اس مہلک وائرس کی آماجگاہ بیان کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے تمام سابقہ تحقیقی مطالعوں میں متعدی وائرس کے ظاہر ہونے کی جگہ کے حوالے سے توجہ ناک اور پھیپھڑوں پر مرکوز ہوتی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…