بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

سائنسدانوں نے کرونا وائرس کے پھیلا ئوکے آسان ذریعے کا پتہ چلا لیا

datetime 1  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

واشنگٹن(این این آئی) امریکا میں سائنس دانوں کا ایک گروپ اپنی تحقیق میں اس بات کا تعین کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے کہ کرونا وائرس انسان کے منہ اندر بآسانی کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق اس حوالے سے محققین نے بتایاکہ منہ کے اندر کا حصہ بالخصوص

لعاب کے غدود، زبان اور حلق کی کوڑیاں (گلٹیاں)ونا وائرس کے نمودار ہونے اور بعد ازاں پھیلنے کے بہترین مقامات ہیں۔محققین کے مطابق تھوک نگلنے سے یا اس کے براہ راست پھیپھڑوں میں داخل ہونے سے وائرس سے متاثر ہونے کے مواقع بڑھ جاتے ہیں۔اسی واسطے محققین نے ہدایت کی حفاظتی ماسک کا پہننا یقینی بنایا جائے۔ اس لیے کہ یہ کرونا وائرس کے پھیلنے اور متعدی وبا کے منتقل ہونے کو روکنے میں سب سے زیادہ کارگر اور موثر ہے۔ واضح رہے کہ یہ پہلی تحقیق ہے جس میں انسانی منہ کو اس مہلک وائرس کی آماجگاہ بیان کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے تمام سابقہ تحقیقی مطالعوں میں متعدی وائرس کے ظاہر ہونے کی جگہ کے حوالے سے توجہ ناک اور پھیپھڑوں پر مرکوز ہوتی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…