منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

’’وہ خوش قسمت افراد جنہیں کرونا وائرس اپنا شکار نہیں کرسکتا ‘‘ نئی تحقیق میں عالمی ماہرین نے پوری دنیا کو بڑی خوشخبری سنادی

datetime 1  جولائی  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)ایسے افرادجو بہترین قوت مدافعت رکھتے ہیں ہوں یا وہ جو اپنے جسم میں قوت ایمونٹی سسٹم کو بہترین قرار لیتےہیں وہ کرونا وائرس کا شکار نہیں ہوتے ۔ تفصیلات کے مطابق سوئیڈن میں ماہرین نے ایک نئی تحقیق میں انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ قوت مدافعت بہترین

کرنے والےافراد کو اینٹی باڈیز ٹیسٹ کی بھی ضرورت پیش نہیں آتی۔کرونا وائرس کے حوالے سے حال ہی میں حال ہی میں کیرولن سکا یونیورسٹی اسپتال سوئیڈن کے محققین نے ان 200 افراد پر تحقیق کی جن میں کرونا وائرس کی علامات کم تھیں یا پھر تھیں ہی نہیں۔نجی ٹی وی رپورٹ کے مطابق تحقیق سے معلوم ہوا کہ جن افراد میں کرونا وائرس کی علامات کم یا پھر ہوتی ہی نہیں ان میں ٹی سیلز (خلیات) پائے جاتے ہیں جو کسی بھی انفیکشن سے لڑتے ہیں۔ٹی سیلز انسانی جسم میں ایک قسم کے سفید خون کے خلیات ہیں جو وائرس سے متاثرہ خلیوں کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور یہ قوت مدافعت کے نظام کا ایک لازمی حصہ ہوتا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ مطالعے سے اخذ کیے گئے نتیجے کے مطابق خون کا عطیہ کرنے والے صحتمند افراد میں سے 30 فیصد میں “ٹی سیل امیونٹی” اینٹی باڈیز سے دو گنا زیادہ ہوجاتی ہیں۔یعنی ایسے مریض جن میں کورونا وائرس کی علامات کم ہیں یا نہیں ہیں ان میں اگر اینٹی باڈیز کم ہے اس کے باوجود بھی ٹی سیلز وائرس سے مقابلہ کرسکتے ہیں۔ واضح رہے کہ کرونا وائرس نے پوری دنیا میں تباہی نے تیزی پکڑ لی ہے ، اب تک متاثرین کی تعداد ایک کروڑ چھ لاکھ سولہ ہزار سے زائد جبکہ ہلاکتوں کی تعداد پانچ لاکھ چودہ ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ کرونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے افراد کی تعداد 58لاکھ بیاسی ہزار سے زیادہ ہو گئی ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…