منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

پلازمہ، ڈیکسامیتھاسون اور ایکٹمرا کورونا کا علاج نہیں بلکہ یہ کیا کام کرتے ہیں؟ ڈاکٹر جاوید اکرم نے ڈیکسا میتھا سون کے خوفناک سائیڈ ایفیکٹس سے آگاہ کر دیا

datetime 22  جون‬‮  2020 |

کراچی (این این آئی)کورونا ایکسپرٹ ایڈوائزری گروپ نے کہا ہے کہ پلازمہ، ڈیکسامیتھاسون اور ایکٹمرا کورونا کا علاج نہیں ہے۔برطانوی ماہرین نے ڈیکسا میتھاسون کو کورونا کے شدید مریضوں پر استعمال کو موثر قرار دیا تھا جس کے بعد پاکستان میں اس کے استعمال پر غور کیا گیا جبکہ پلازمہ کے کامیاب نتائج کے بعد ملک بھر میں کورونا مریضوں کا پلازمہ سے علاج کیا جارہا ہے۔اس صورتحال پر کورونا ایکسپرٹ ایڈوائزری گروپ

کا ماننا ہے کہ پلازمہ، ڈیکسامیتھاسون اور ایکٹمرا کورونا کا علاج نہیں ہے بلکہ یہ صرف مزیدحالت خراب ہونے کو کم کرتی ہے اور کسی عام شخص کومعلوم نہیں کہ ان دواؤں کے بعدکیانتائج ہوسکتے ہیں۔ایڈوائزری گروپ کے مطابق پنجاب کے سرکاری اسپتالوں میں 13.6ملین ڈیکسامیتھاسون انجکشن موجودہیں، ڈیکسامیتھاسون بہت سستی دوا ہے اس کی کوئی شارٹیج نہیں، میڈیاخبریں چلاکردواں کی شارٹیج نہ ہونے دے۔ایکسپرٹ گروپ کا کہنا ہے کہ ہائیڈروکسی کلوروکئین کی کوئی افادیت نہیں بلکہ نقصان زیادہ ہیں، ہائیڈروکسی کلوروکئین کی فروخت کالائسنس واپس لے لیاگیا، پاکستان میں ہائیڈروکسی کلوروکئین کے تمام ٹرائلزروک دیے گئے ہیں۔واضح رہے کہ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم ڈیکسا میتھاسون کو دو دھاری تلوار قرار دے چکے ہیں، انہوں نے کہاکہ ڈیکسا میتھاسون کا فائدہ وینٹی لیٹر کے مریضوں پر ہے لیکن پاکستان میں یا دنیا میں اس کا کوئی بھی کلینیکل فائدہ نہیں ہے۔ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہاکہ میں درجنوں مریضوں کو ٹریٹ کررہا ہوں جو مریض وینٹی لیٹرز پر ہیں یا جو مریض گردے کے مرض میں مبتلا ہیں ان کے لیے ہم دیگر دوائیں استعمال کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ڈیکسا میتھاسون کو ذخیرہ اندوزی کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اس کے بہت سائیڈ ایفیکٹس ہیں اس دوا کے استعمال سے فالج اورگردوں کے مرض کا خطرہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…