منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

نجی لیبارٹریز نے کورونا ٹیسٹ کی مد میں عوام کی کھال اتارنا شروع کر دی، فیس کی کئی گنا زیادہ وصولی

datetime 16  جون‬‮  2020 |

کراچی (آن لائن)کراچی میں نجی لیبارٹریز نے کورونا ٹیسٹ کی 3 گنا فیسیں وصول کرنا شروع کردی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق کراچی کے نجی ہسپتال اور لیبارٹریز کورونا کے خوف کا بھرپور فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ کورونا وائرس ٹیسٹ اور اینٹی باڈی (قوتِ مدافعت) کا ٹیسٹ کرنے والی بڑی لیبارٹریز عوام سے ٹیسٹس کیلئے 2 سے 3 گنا چارجز وصول کر رہی ہیں۔ کراچی کی نجی لیبارٹریز جن میں ہاشمانی لیبارٹریز،

عیسیٰ لیبارٹریز اور چغتائی لیبارٹریز شامل ہیں، ان کے خلاف شہریوں کی طرف سے کورونا وائرس ٹیسٹ کی فیس 8000 روپے اور گھر پر نمونہ لینے کی فیس 2 ہزار 500 روپے وصول کرنے کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ بعض لیبارٹریز میں مدافعتی ٹیسٹ کی 10 ہزار 500 روپے فیس وصول کی جارہی ہے جبکہ مریضوں کے خون کے نمونے حاصل کرنے کیلئے بین الاقوامی معیارات کی کوئی پابندی نہیں کی جاتی۔ نجی ہسپتالوں میں لیبارٹری ٹیکنیشنز ایم 95 ماسکس سے بھی محروم نظر آتے ہیں۔ نجی ہسپتالوں میں لیب ٹیکنیشنز عام سرجیکل ماسک پہنے خون اور دیگر نمونے حاصل کرتے نظر آتے ہیں جس سے کورونا وائرس مزید پھیلنے کا خدشہ ہے جبکہ مذکورہ لیبارٹریز قوتِ مدافعت کی جانچ کیلئے اینٹی باڈی ٹیسٹ میں پرانے انفیکشن کو ظاہر کرتی ہیں جسے ماہرین غیر ضروری قرار دیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایسا ٹیسٹ اْس وقت کرانا چاہئے جب کسی کو لاحق کورونا وائرس یا دیگر انفیکشن شدت اختیار کرجائے، جبکہ نجی ہسپتال عوام کو حقیقت سے آگاہ کرنے کی بجائے ٹیسٹس کی بھاری فیسیں وصول کرنے پر زیادہ توجہ دیتے نظر آتے ہیں۔ حیرت انگیز طور پر آغا خان جو زائد فیسز کے باعث مشہور ہے، اینٹی باڈی ٹیسٹ کی فیس 1 ہزار 700 روپے وصول کرتا ہے اور مذکورہ لیبارٹریز اسی ٹیسٹ کی 3 سے 4 ہزار روپے فیسز لے رہی ہیں جبکہ سندھ حکومت کا محکمہ صحت نجی لیبارٹریز کی فیسوں اور معیار کو کنٹرول کرتا ہے۔ محکم? صحت سندھ کے افسران نے مبینہ طور پر بھاری نذرانے وصول کرکے عوام کو لیبارٹریز کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے جبکہ نجی لیبارٹریز جان بوجھ کر پرانے انفیکشن کی بلا جواز جانچ کرکے ہزاروں وصول کر رہی ہیں۔ شہریوں نے حکومتِ سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر زائد فیسیں لینے والی لیبارٹریز کے خلاف ایکشن لے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…