منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان میں طبی عملے کی کورونا میں مبتلا ہونے کی چونکا دینے والی شرح،پاکستان کا صحت کا نظام تباہ ہونے کے قریب، نیو یارک ٹائمز کی دھماکہ خیز رپورٹ

datetime 16  جون‬‮  2020 |

نیویارک (این این آئی) امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں طبی عملے کی کورونا میں مبتلا ہونے کی شرح چونکا دینے والی ہے۔رپورٹ کے مطابق ڈاکٹروں اور طبی عملے کو کورونا کے ساتھ ساتھ متاثرہ مریضوں کے خاندان کی جانب سے جسمانی تشدد کا بھی سامنا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ لاک ڈاؤن ختم ہونے کے ایک ماہ بعد ہسپتال

کورونا مریضوں سے بھر گئے ہیں، لاک ڈاؤن ختم کرنے سے پہلے پاکستان میں مریضوں کی تعداد 25 ہزار تک تھی تاہم صرف ایک ماہ میں نئے ایک لاکھ مریض رپورٹ ہوچکے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ کورونا وائرس کے باعث پاکستان کا صحت کا نظام تباہ ہونے کے قریب ہے۔ دوسری جانب 3 جون کو وزارت نیشنل ہیلتھ اینڈ ایمرجنسی سروس نے رپورٹ جاری کی تھی جس کے مطابق کورونا سے متاثرہ ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی تعداد 2 ہزار 561 تک پہنچ گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق اب تک ڈاکٹرز سمیت طبی عملے کے 25 اہلکار کورونا سے انتقال کرچکے ہیں جب کہ 8 افراد تشویشناک حالت کے باعث وینٹی لیٹرز پر ہیں۔خیال رہے کہ ملک میں مہلک وائرس کے باعث اب تک 2872 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جب کہ متاثرہ مریضوں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ڈاکٹروں اور طبی عملے کو کورونا کے ساتھ ساتھ متاثرہ مریضوں کے خاندان کی جانب سے جسمانی تشدد کا بھی سامنا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ لاک ڈاؤن ختم ہونے کے ایک ماہ بعد ہسپتال کورونا مریضوں سے بھر گئے ہیں، لاک ڈاؤن ختم کرنے سے پہلے پاکستان میں مریضوں کی تعداد 25 ہزار تک تھی تاہم صرف ایک ماہ میں نئے ایک لاکھ مریض رپورٹ ہوچکے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ کورونا وائرس کے باعث پاکستان کا صحت کا نظام تباہ ہونے کے قریب ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…