منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کروڑوں کی لاگت سے تعمیر ہونے والا ہسپتال موت کا سبب بننے لگا، ہسپتال ڈرائیور کی بیوی زندگی کی بازی ہار گئی، انتہائی افسوسناک واقعہ

datetime 10  جون‬‮  2020 |

لورالائی(آن لائن) کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والا ٹیچنگ ہسپتال غریب عوام کے لئے علاج معالجہ کی سہولت کے بجائے موت کا سبب بنے لگا سول ہسپتال کا شعبہ حادثات ڈاکٹروں کے بجائے ٹرینرز چلانے لگے گذشتہ روز ساری زندگی محکمہ صحت میں ڈرائیونگ شائستہ خان استاد کی اہلیہ لورالائی ٹیچنگ ہسپتال کے شعبہ امراض قلب وارڈ میں ڈاکڑز اور عملہ نہ ہونے کے وجہ سے اپنی زندگی کی بازی ہار گئی

جاںبحق ہونے والی خاتون کے بیٹے عارف جو کہ خود بھی محکمہ صحت کا ملازم ہے نے بتاتے ہوئے کہا کہ ملازموں کے ساتھ ایسا سلوک ہے تو عام عوام کا اللہ حافظ ہے ستم ظریفی کی بات تو یہ ہے کہ شعبہ امراض قلب میںگذشتہ کئی دنوں سے اے سی جی مشین خراب ہے اور لوگ دل کے مریضوں کو زندہ لا کر میتیں واپس لے جا رہے ہیں لورالائی محکمہ ہیلتھ کے سربراہان کورونا کی مد میں آنے والی رقم کی خرد برد میں مصروف ہیں ڈاکٹر صاحبان ہسپتال میں سرکاری ڈیوٹیاں دینے کے بجائے اپنے پرائیویٹ کلینک چلانے میں مصروف عمل ہیں ڈاکٹر جس کو مسیحا کا خطاب دیا جاتا ہے وہ اس وقت موت کے سوداگر بنے ہوئے ہیںہسپتال میں بھاری بھرکم تنخوا لینے والے ڈاکٹروں کو ٹیچنگ ہسپتال میں مریض چیک کرنے سے کورونا وائرس لگ جانے کے 100% چانس ہوتے ہیں اور یہی ڈاکٹر اپنے پرائیویٹ کلینکس میںبھاری فیسوں کے عیوض مریضوں کو ایسے چیک کرتے ہیں جیسا کہ کوروناوائرس کا وجود ہی نہیںاور یہی ڈاکٹرزمخصوص زیادہ پرسنٹیج دینے والی دو نمبر کمپنیوں کی ادویات لکھنے میں مصروف عمل ہیں اسی طرح ہر ڈاکٹر کی اپنی لیبارٹریاںبھی ہیں اورڈاکٹر صاحبان معمولی بیماری والوں کو بھی مختلف ٹیسٹ لکھ کر دیتے ہیں ڈاکٹر صاحبان عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے میں مصروف عمل ہیں دوسری جانب علاقہ کے منتخب نمائندئے ،کمشنر ،ڈپٹی کمشنر عوام سے بے خبر اپنی عیش وعشرت کی زندگی گذارنے میں مگن ہیں جاں بحق ہونے والی خاتون کے بیٹے عارف اور عوامی حلقوں نے چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ ،چیف سیکرٹری بلوچستان ،سیکرٹری صحت بلوچستان سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ لورالائی کے لوکل ڈاکٹروں کو لورالائی سے ٹرانسفر کیا جائے سرکاری ڈاکٹروں کے پرائیویٹ نجی کلینک چلانے پر مکمل پابندی لگائی جائے اور دو نمبر لیبارٹریوں اور دو نمبر ادویات کو بند کیا جائے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…