منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کورونا کے مریضوں کو صحت یاب ہونے کے بعد بھی کئی ماہ تک کن مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے؟تحقیق میں ہوشربا انکشاف

datetime 1  جون‬‮  2020 |

لندن(این این آئی)کورونا وائرس کے مریضوں کو صحتیابی کے بعد کئی ماہ تک بہت زیادہ تھکاوٹ اور سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہوسکتا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ بات برطانیہ سے تعلق رکھنے والے سائنسدانوں نے ایک مقالے میں بتائی۔برطانوی حکومت کے سائنٹیفک ایڈوائزری گروپ آن ایمرجنسیز کی جانب سے جاری مقالے میں خدشہ ظاہر کیا گیا کہ یہ وائرس طویل المعیاد بنیادوں پر طبی مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔

سائنسدانوں نے 7 مئی کو ملاقات کرکے کورونا وائرس سے منسلک متعدد پیچیدگیوں بشمول فالج، گردوں کے امراض اور اعضا کے افعال ناکام ہونے پر بات کی گئی۔انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ نئے نوول کورونا وائرس کے نتیجے میں طویل المعیاد اثرات مرتب ہوسکتے ہیں جن کا سامنا مریضوں کو کئی ماہ تک ہوسکتا ہے۔مختلف پیچیدگیوں اور علامات پر بحث کے بعد مقالے میں کہا گیا کہ سائنسدانوں نے طویل المعیاد اثرات کی موجودگی کو نوٹ کیا جیسے کئی ماہ تک بہت زیادہ تھکاوٹ اور سانس لینے میں دشواری، جبکہ اس بات کی اہمیت پر زور دیا گیا کہ ان اثرات کا جائزہ طویل عرصے تک جاری والی تحقیقی رپورٹس میں لیا جائے۔ایک سائنسی مشیر نے کہا کہ شدید بیماری کے بعد صحتیاب مریضوں کی صحت کا جائزہ لینے کے بعد دریافت کیا گیا کہ بڑی تعداد میں افراد جلد معمول کی زندگی پر لوٹ نہیں سکتے۔اس حوالے سے متعدد سائنسدان کام کررہے ہیں تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ صحتیابی کے بعد طویل المعیاد اثرات کب تک برقرار رہ سکتے ہیں۔گزشتہ ہفتے برطانیہ کے صحت کے ادارے این ایچ ایس کے سربراہ نے انتباہ دیا تھا کہ وائرس سے ہونے والے نقصان پر قابو پانے کے لیے ہزاروں افراد کو این ایچ ایس کی مدد کی ضرورت ہوسکتی ہے۔

این ایچ ایس کے چیف ایگزیکٹو سر سائمن اسٹیونز نے کہا تھا کہ اگرچہ ہمارا ملک کورونا وائرس کی ابتدائی وبا سے باہر نکل رہا ہے مگر ہمیں بحالی اور نگہداشت پر توجہ دینا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ کچھ افراد کو صحتیابی کے بعد بھی نگہداشت کی ضرورت ہوسکتی ہے، شدید بیماری کے بعد دماغی تنزلی اور نفسیاتی مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے جبکہ متعدد افراد کو روزمرہ کے کاموں کے لیے سماجی تعاون کی ضرورت ہوسکتی ہے۔برطانیہ میں گزشتہ ہفتے ایک ہسپتال کو کورونا وائرس کے صحتیاب مریضوں کے مختص کیا گیا تھا تاکہ ان کو طویل المعیاد اثرات سے بچایا جاسکے۔

تحقیق میں اب تک دریافت کیا گیا ہے کہ آئی سی یو میں زیرعلاج رہنے والے کووڈ 19 کے مریضوں میں طویل المعیاد طبی مسائل بشمول ذہنی صدمے کا سامنا ہوسکتا ہے۔متعدد کیسز میں صحتیاب مریضوں کو ایک سے زیادہ طویل المعیاد اثرات کا سامنا ہوسکتا ہے جبکہ کچھ کو چلنے کے لیے بھی مدد کی ضرورت ہوسکتی ہے۔ماہرین کا تو یہ بھی کہنا تھا کہ چند مریض جو بہت زیادہ بیمار نہیں ہوئے اور ہسپتال جانے کی ضرورت نہیں پڑی، ان کو بھی 2 ماہ تک بحالی نو کے لیے مدد کی ضرورت ہوسکتی ہے۔تحقیق سے عندیہ ملا کہ کووڈ کے ہر 20 میں سے ایک مریض کو کم از کم ایک ماہ تک طبی مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…