منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

مچھروں سے پھیلنے والی ملیریا کی بیماری سے لوگوں کی حفاظت ممکن ہو گئی  برطانیہ اور کینیا کے سائنسدانوں کی ٹیم  نےمکمل نجات کی خوشخبری سنادی

datetime 5  مئی‬‮  2020 |

لندن (این این آئی)برطانیہ اور کینیا کے سائنسدانوں کی ٹیم نے ملیریا سے مکمل نجات کے حوالے سے بڑی کامیابی حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔سائنسدانوں نے کہا کہ انہوں نے ایک ایسا جرثومہ دریافت کیا ہے جو ملیریا کی وجہ بننے والے طفیلیے پلازموڈیم کو کنٹرول کرنے کی بے حد صلاحیت رکھتا ہے لہٰذا اس تحقیق سے آنے والے دنوں میں مچھروں سے پھیلنے والی ملیریا کی بیماری سے لوگوں کی

حفاظت ممکن ہوسکے گی۔محققین ملیریا کو قابو میں کرنے کے لیے مچھروں میں مذکورہ جرثومہ داخل کرکے انہیں جنگلوں میں چھوڑنے یا دیگر طریقوں سے اس جرثومے کو مچھروں تک پہنچانے پر غور کررہے ہیں۔ملیریا کا سبب بننے والے پیراسائٹ یعنی طفیلیے کو روکنے میں معاون ثابت ہونے والا یہ جرثومہ کینیا کی جھیل وکٹوریہ میں مچھروں پر تحقیقات کے دوران دریافت ہوا، ماہرین کے مطابق یہ جرثومہ کیڑوں کی آنت اور جنسی اعضاء میں رہتا ہے۔تحقیق کے دوران ماہرین کو ایک بھی مچھر ایسا نہیں ملا جس میں یہ جرثومہ موجود ہو اور وہ ملیریا کے جراثیم بھی رکھتا ہو جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ یہ جرثومہ مچھر کو ملیریا کے جراثیم سے محفوظ رکھتا ہے۔ماہرین کے مطابق یہ فی الحال یہ جرثومہ قدرتی طور پر تقریباً 5 فیصد مچھروں میں پایا گیا ۔دوسری جانب کینیا کے عالمی مرکز برائے حشرات الارض اور ماحولیات کے ڈاکٹر جیرمی ہیرن کا کہنا ہے کہ یہ جرثومہ 100 فیصد ملیریا کو روکنے میں مؤثر ہے اور یہ بہت بڑی پیشرفت ہے۔ماہرین کے مطابق کسی بھی خطے میں ملیریا کو روکنے کیلئے ضروری ہے کہ کم از کم 40 فیصد مچھروں کو اس جرثومے سے متاثر کیا جائے کرنا ضروری ہے۔بالغ مچھروں میں براہ راست اس جرثومے کو داخل کرنے یا پھر مادہ مچھروں کے ذریعے ان کے بچوں میں جرثومہ منتقل کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…