جمعہ‬‮ ، 19 جون‬‮ 2026 

مچھروں سے پھیلنے والی ملیریا کی بیماری سے لوگوں کی حفاظت ممکن ہو گئی  برطانیہ اور کینیا کے سائنسدانوں کی ٹیم  نےمکمل نجات کی خوشخبری سنادی

datetime 5  مئی‬‮  2020 |

لندن (این این آئی)برطانیہ اور کینیا کے سائنسدانوں کی ٹیم نے ملیریا سے مکمل نجات کے حوالے سے بڑی کامیابی حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔سائنسدانوں نے کہا کہ انہوں نے ایک ایسا جرثومہ دریافت کیا ہے جو ملیریا کی وجہ بننے والے طفیلیے پلازموڈیم کو کنٹرول کرنے کی بے حد صلاحیت رکھتا ہے لہٰذا اس تحقیق سے آنے والے دنوں میں مچھروں سے پھیلنے والی ملیریا کی بیماری سے لوگوں کی

حفاظت ممکن ہوسکے گی۔محققین ملیریا کو قابو میں کرنے کے لیے مچھروں میں مذکورہ جرثومہ داخل کرکے انہیں جنگلوں میں چھوڑنے یا دیگر طریقوں سے اس جرثومے کو مچھروں تک پہنچانے پر غور کررہے ہیں۔ملیریا کا سبب بننے والے پیراسائٹ یعنی طفیلیے کو روکنے میں معاون ثابت ہونے والا یہ جرثومہ کینیا کی جھیل وکٹوریہ میں مچھروں پر تحقیقات کے دوران دریافت ہوا، ماہرین کے مطابق یہ جرثومہ کیڑوں کی آنت اور جنسی اعضاء میں رہتا ہے۔تحقیق کے دوران ماہرین کو ایک بھی مچھر ایسا نہیں ملا جس میں یہ جرثومہ موجود ہو اور وہ ملیریا کے جراثیم بھی رکھتا ہو جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ یہ جرثومہ مچھر کو ملیریا کے جراثیم سے محفوظ رکھتا ہے۔ماہرین کے مطابق یہ فی الحال یہ جرثومہ قدرتی طور پر تقریباً 5 فیصد مچھروں میں پایا گیا ۔دوسری جانب کینیا کے عالمی مرکز برائے حشرات الارض اور ماحولیات کے ڈاکٹر جیرمی ہیرن کا کہنا ہے کہ یہ جرثومہ 100 فیصد ملیریا کو روکنے میں مؤثر ہے اور یہ بہت بڑی پیشرفت ہے۔ماہرین کے مطابق کسی بھی خطے میں ملیریا کو روکنے کیلئے ضروری ہے کہ کم از کم 40 فیصد مچھروں کو اس جرثومے سے متاثر کیا جائے کرنا ضروری ہے۔بالغ مچھروں میں براہ راست اس جرثومے کو داخل کرنے یا پھر مادہ مچھروں کے ذریعے ان کے بچوں میں جرثومہ منتقل کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



فلم میں بھی ہارنے سے انکار


یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…