منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کرونا کیخلاف انتہائی موثر ثابت ہونے والی ویکسین سامنے آ گئی، پاکستان میں یہ ویکسین بچوں کی پیدائش پر انہیں لگائی جاتی ہے، حیرت انگیز تحقیق

datetime 20  اپریل‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) بی سی جی ویکسین  دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی ویکسین ہے، یہ بی سی جی ویکسین ٹیوبر کلوسس سے بچاتی ہے جسے ٹی بی وی کہا جاتا ہے جو کہ پھیپھڑوں اور اکثر جسم کے دوسرے حصوں جیسا کہ ہڈیوں، جوڑوں کو متاثر کرتا ہے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے ٹی بی کے زیادہ واقعات والے ممالک میں پیدائش کے بعد جلد از جلد بی سی جی کی ویکسینیشن کی ہدایت کی ہے،

یہ صدی قدیم ویکسین گزشتہ ہفتوں سے خبروں کی زینت بنی ہوئی ہے، اس کی وجہ بائیولوجیکل مطالعے ہیں جن کے مطابق بی سی جی کرونا وائرس کے خلاف تحفظ فراہم کر سکتی ہے، کچھ ممالک میں کرونا وائرس سے ہونے والی اموات دوسرے ممالک سے کم ہیں اور سائنسدانوں کے مطابق اس کی وجہ بی سی جی ویکسین یا ٹیوبر کلوسس ہو سکتی ہے، نیویارک انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی جانب سے اس حوالے سے کی جانے والی تحقیق میں سب سے پہلے اس بات پر غور کیا گیا کہ جاپان میں کرونا کے کیسز سب سے کم ہیں تو کیوں ہیں، جاپان وہ ملک ہے جہاں چین کے بعد کیسز سامنے آنا شروع ہوئے تھے لیکن چین کی طرح یہاں لاک ڈاؤن نہیں کیا گیا، سپین میں اٹھارہ ہزار سے زیادہ اموات ہوئیں جبکہ پرتگال میں اموات کی تعداد چند سو رہی، کیونکہ پرتگال میں بی سی جی ویکسین کی پالیسی ہے اور امریکہ، اٹلی اور نیدر لینڈ میں کبھی بھی بی سی جی ویکسین کا استعمال نہیں ہوا۔ ٹیوبر کلوسس اور کووڈ 19 دو مختلف بیماریاں ہیں، ٹی بی ایک قسم کے بیکٹریا سے ہوتاہے جبکہ کووڈ 19 ایک وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے، چند سائنسدانوں کا کہناہے کہ بی سی جی ٹی بی کے خلاف موثر ہے بلکہ یہ جسم میں قوت مدافعت بھی پیدا کرتی ہے اور بی سی جی لوگوں کو ٹی بی کے علاوہ دوسرے جراثیموں کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرنے میں مدد دیتا ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ بی سی جی کرونا وائرس کے خلاف تحفظ دے گی لیکن بعض سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس پر مکمل تحقیق ہونا چاہیے کیونکہ جہاں بی سی جی کی ویکسینیشن ہوئی ہے وہاں کرونا کیسز بہت کم ہیں۔ پاکستان میں بھی یہ ویکسین بچوں کو پیدائش کے وقت لگائی جاتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…