جمعرات‬‮ ، 13 فروری‬‮ 2025 

کرونا وائرس کی وجہ سے نصف ارب بچے دوپہر کے کھانے سے محروم، صرف کروناسے ہلاک افراد کی گنتی نہ کریں،یونیسیف نے انتہائی اہم بات کر دی

datetime 19  اپریل‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

جنیوا (این این آئی)پوری دنیا میں کرونا وائرس نے اگر ایک طرف بالغوں پر جسمانی سطح پر یلغار کی ہے تو دوسری طرف بچوں کے ذہنوں پر اس کے دور رس اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔یونیسیف نے اپیل کی ہے کہ بچوں کو اس وبا کے مضر اثرات سے بچایا جائے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کے چلڈرنز فنڈ نے کہاکہ کرونا وائرس کے خلاف لڑی جانے والی جنگ میں اس بات کو بھی اہمیت دی جانی چاہیے کہ بچے بھی اس وبا سے متاثر ہو رہے ہیں۔

ادارے نے کہا ہے کہ پوری دنیا میں بچے اس ماحول میں شدید ذہنی دباو کا شکار ہو رہے ہیں اور ان کے اثرات ان کی آئیندہ زندگی میں ان کا پیچھا کرتے رہیں گے۔ کرونا کے پھیلاو کو روکنے کی کوشش ایک طرف بہت اہم، تو دوسری طرف ہمیں اپنی اگلی نسل کی طرف بھی توجہ دینی ہوگی اور انہیں کرونا کے مہلک اثرات سے ممکن حد تک بچانا ہوگا۔ ممکن ہے کہ اس وبائی مرض سے بڑوں کی نسبت بچوں کو کم خطرہ ہو مگر 60 فی صد بچے ایک ایسے ماحول میں رہ رہے ہیں جہاں لاک ڈاون ہے، سکول بند ہیں اور وہ گھر سے باہر تازہ ہوا میں سانس نہیں لے سکتے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سکول بند ہونے کی وجہ سے ان کی ذہنی صحت پر بہت دباو ہے، اور یہ خاندانی جھگڑوں سے بھی متاثر ہو رہے ہیں۔اس میں بتایا گیا کہ یہ درست ہے کہ اس وبا سے جسمانی طور پر کم بچے شکار ہو رہے ہیں۔ لیکن ان کی ذہنی اور جسمانی صحت سے متعلق بہت ضرورتیں ادھوری چھوڑ دی گئی ہیں۔انہیں ویکسین شیڈول کے مطابق دستیاب نہیں۔ مثال کے طور پر انسداد پولیو کی مہم کئی سال پیچھے چلی جائے گی۔ کم اس کم تیئس ملکوں میں خسرہ کی ویکسین نہیں دی جا رہی ہے۔ زچہ و بچہ کو مناسب طبی سہولتوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے نوزائیدہ بچوں کی اموات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بچے کم خوراکی کا شکار ہیں۔ پھر سب سے بڑھ کر ان کی پڑھائی لکھائی معطل ہے اور کھیل کود کی سرگرمیاں موقوف۔یونیسیف نے عالمی سطح پر حکومتوں سے اپیل کی ہے کہ کہ وہ کرونا کے خلاف یک طرفہ جنگ میں اپنے سارے وسائل نہ صرف کریں، بلکہ اس سلسلے میں وہ ایک متوازن رویہ اختیار کریں۔ادارے نے کہا کہ صرف کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی گنتی نہ کریں، بلکہ یہ دیکھیں کہ اگلی نسل کا مستقبل بھی دائو پر لگا ہوا ہے۔ ان بچوں کی آئندہ زندگی بھی اتنی ہی اہم ہے جتنا اس مرض کے پھیلاو کو روکنا اور لوگوں کی زندگیاں بچانا۔

موضوعات:



کالم



بے ایمان لوگ


جورا (Jura) سوئٹزر لینڈ کے 26 کینٹن میں چھوٹا سا کینٹن…

صرف 12 لوگ

عمران خان کے زمانے میں جنرل باجوہ اور وزیراعظم…

ابو پچاس روپے ہیں

’’تم نے ابھی صبح تو ہزار روپے لیے تھے‘ اب دوبارہ…

ہم انسان ہی نہیں ہیں

یہ ایک حیران کن کہانی ہے‘ فرحانہ اکرم اور ہارون…

رانگ ٹرن

رانگ ٹرن کی پہلی فلم 2003ء میں آئی اور اس نے پوری…

تیسرے درویش کا قصہ

تیسرا درویش سیدھا ہوا‘ کھنگار کر گلا صاف کیا…

دجال آ چکا ہے

نیولی چیمبرلین (Neville Chamberlain) سرونسٹن چرچل سے قبل…

ایک ہی راستہ بچا ہے

جنرل احسان الحق 2003ء میں ڈی جی آئی ایس آئی تھے‘…

دوسرے درویش کا قصہ

دوسرا درویش سیدھا ہوا‘ کمرے میں موجود لوگوں…

اسی طرح

بھارت میں من موہن سنگھ کو حادثاتی وزیراعظم کہا…

ریکوڈک میں ایک دن

بلوچی زبان میں ریک ریتلی مٹی کو کہتے ہیں اور ڈک…