جمعہ‬‮ ، 19 جون‬‮ 2026 

کرونا وائرس کی وجہ سے نصف ارب بچے دوپہر کے کھانے سے محروم، صرف کروناسے ہلاک افراد کی گنتی نہ کریں،یونیسیف نے انتہائی اہم بات کر دی

datetime 19  اپریل‬‮  2020 |

جنیوا (این این آئی)پوری دنیا میں کرونا وائرس نے اگر ایک طرف بالغوں پر جسمانی سطح پر یلغار کی ہے تو دوسری طرف بچوں کے ذہنوں پر اس کے دور رس اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔یونیسیف نے اپیل کی ہے کہ بچوں کو اس وبا کے مضر اثرات سے بچایا جائے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کے چلڈرنز فنڈ نے کہاکہ کرونا وائرس کے خلاف لڑی جانے والی جنگ میں اس بات کو بھی اہمیت دی جانی چاہیے کہ بچے بھی اس وبا سے متاثر ہو رہے ہیں۔

ادارے نے کہا ہے کہ پوری دنیا میں بچے اس ماحول میں شدید ذہنی دباو کا شکار ہو رہے ہیں اور ان کے اثرات ان کی آئیندہ زندگی میں ان کا پیچھا کرتے رہیں گے۔ کرونا کے پھیلاو کو روکنے کی کوشش ایک طرف بہت اہم، تو دوسری طرف ہمیں اپنی اگلی نسل کی طرف بھی توجہ دینی ہوگی اور انہیں کرونا کے مہلک اثرات سے ممکن حد تک بچانا ہوگا۔ ممکن ہے کہ اس وبائی مرض سے بڑوں کی نسبت بچوں کو کم خطرہ ہو مگر 60 فی صد بچے ایک ایسے ماحول میں رہ رہے ہیں جہاں لاک ڈاون ہے، سکول بند ہیں اور وہ گھر سے باہر تازہ ہوا میں سانس نہیں لے سکتے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سکول بند ہونے کی وجہ سے ان کی ذہنی صحت پر بہت دباو ہے، اور یہ خاندانی جھگڑوں سے بھی متاثر ہو رہے ہیں۔اس میں بتایا گیا کہ یہ درست ہے کہ اس وبا سے جسمانی طور پر کم بچے شکار ہو رہے ہیں۔ لیکن ان کی ذہنی اور جسمانی صحت سے متعلق بہت ضرورتیں ادھوری چھوڑ دی گئی ہیں۔انہیں ویکسین شیڈول کے مطابق دستیاب نہیں۔ مثال کے طور پر انسداد پولیو کی مہم کئی سال پیچھے چلی جائے گی۔ کم اس کم تیئس ملکوں میں خسرہ کی ویکسین نہیں دی جا رہی ہے۔ زچہ و بچہ کو مناسب طبی سہولتوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے نوزائیدہ بچوں کی اموات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بچے کم خوراکی کا شکار ہیں۔ پھر سب سے بڑھ کر ان کی پڑھائی لکھائی معطل ہے اور کھیل کود کی سرگرمیاں موقوف۔یونیسیف نے عالمی سطح پر حکومتوں سے اپیل کی ہے کہ کہ وہ کرونا کے خلاف یک طرفہ جنگ میں اپنے سارے وسائل نہ صرف کریں، بلکہ اس سلسلے میں وہ ایک متوازن رویہ اختیار کریں۔ادارے نے کہا کہ صرف کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی گنتی نہ کریں، بلکہ یہ دیکھیں کہ اگلی نسل کا مستقبل بھی دائو پر لگا ہوا ہے۔ ان بچوں کی آئندہ زندگی بھی اتنی ہی اہم ہے جتنا اس مرض کے پھیلاو کو روکنا اور لوگوں کی زندگیاں بچانا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



فلم میں بھی ہارنے سے انکار


یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…