جمعہ‬‮ ، 19 جون‬‮ 2026 

وہ 3امراض جن کی وجہ سے دنیا میں ہر سال 36لاکھ انسان مر جاتے ہیں  جن کیخلاف نہ کرونا جیسی مہم چلائی جاتی ہے اور نہ لاک ڈائون کیا جاتا ہے تحقیقاتی رپورٹ میں ہوشربا انکشافات کر دیئے گئے

datetime 12  اپریل‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)دنیا بھر میں ہر سال تین بیماریوں کے وجہ سے زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق ٹی بی ، یرقان اور ایڈز وہ امراض ہیں جو ایک سال میں 36لاکھ سے زائد افراد کی زندگیاں نگل جاتے ہیں ۔ کرونا وائرس نے دنیا کو اس وقت اپنے حصار میں لیا ہوا اور مسلسل تباہ کاریاں جاری ہیں ، وائرس سے متاثرہ افراد کی 18لاکھ سے تجاوز کر گئی جبکہ ہلاکتوں کی تعداد ایک لاکھ دس ہزار سے

اوپر چلی گئی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق کرونا وائرس کی وجہ سے دنیا کے رابطے آپس میں ختم ہو گئے لوگ گھروں میں بند ہو کر رہے گئے اور ہر طرف خوف کی لہر نظر آتی ہے جبکہ دیکھا جائے تو ٹی بی ، کالا یرقان اور ایڈز بھی وہ امراض ہیں جن کی وجہ سے سالانہ لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کے چراغ بجھ جاتے ہیں ۔نزلہ زکام اور ٹی کا پھیلا ئو بھی کرونا وائرس جیسا ہی ہے جبکہ مریض کے کھانسنے ، چھینکنے اور اس کی استعمال کردہ چیزوں دور ڈاکٹرز دور رہنے اور علیحدہ رکھنے کا کہتے ہیں ۔ کیونکہ اس کے چرثومے بھی صحت مند افراد میں اسی طرح منتقل ہوتے ہیں جیسے کرونا وائرس کے ۔ اب ہرسال36لاکھ سے زائد زگیاں نگلنے والے تین امراض ٹی بی‘یرقان اور ایڈز کے اعداد وشمار کا جائزہ لیتے ہیں امریکی ادارے یوایس ایڈ کی رپورٹ کے مطابق جون 2019میں ایچ آئی وی(ایڈز) کے مریضوں کی تعداد24.5ملین تھی جبکہ 2018میں یہ مرض 7لاکھ70ہزار انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار گیا 2010میں ایچ آئی وی سے مرنے والوں کی تعداد8لاکھ60ہزار تھی۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیوایچ او)کی سال2019کی رپورٹ میں بتایا تھا کہ ٹی بی سے ایک سال کے دوران دنیا بھر میں15لاکھ اموات ہوئیں اور ایک کروڑ سے زائدمریض سامنے آئے جبکہ 4لاکھ 84ہزارمریضوں کو صحت یاب ہونے کے بعد دوبارہ مرض لاحق ہوا۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہپاٹائٹس، دنیا بھر میں ہونے والی اموات کی آٹھویں سب سے بڑی وجہ ہے اس بیماری کے باعث سالانہ تقریبا14لاکھ افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ہپا ٹائٹس کا مرض بنیادی طور پر سوزش جگر کہلاتا ہے جس کی پانچ اقسام ہیں یعنی اے، بی، سی ، ڈی اور ای ہیں‘ ہیپاٹائٹس بی اور سی کو ’خاموش قاتل‘ قرار دیا جاتا ہے کیونکہ ان بیماریوں کا مریض کو عموماً اس وقت ہی علم ہوتا ہے جب یا تو وہ ان کے ٹیسٹ کروائے جاتے ہیں جب ٹیسٹ رپورٹ سامنے آتی ہے تو اس وقت مریض کا جگر مکمل طور پر یا پھر 99فیصد تک تباہ ہو چکا ہوتا ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



فلم میں بھی ہارنے سے انکار


یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…