پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

کوروناوائرس اسٹیل اور پلاسٹ کی تہوں پر چار دن ، فیس ماسک پرکتنے دن تک موجود رہ سکتا ہے، نئی تحقیق میں حیرت انگیز انکشاف

datetime 6  اپریل‬‮  2020 |

نیویارک (این این آئی)کورونا وائرس پر کی جانے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ یہ مہلک وائرس اسٹیل اور پلاسٹ کی تہوں پر چار دن جب کہ فیس ماسک پر ایک ہفتے تک موجود رہ سکتا ہے۔ساؤتھ چائنہ مارننگ پوسٹ کے مطابق یونیورسٹی آف ہانگ کانگ میں کی گئی تحقیق میں بتایا گیا کہ کووِڈ 19 یعنی کورونا وائرس پلاسٹ اور اسٹین لیس اسٹیل پر چار دن ، فیس ماسک کی پہلی تہہ پر یہ ایک ہفتے تک موجود رہ سکتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ اس وائرس کو گھروں میں استعمال کیے جانے والے جراثیم کش محلول یعنی بلیچ یا صابن اور پانی سے دھو کر مارا جا سکتا ہے۔محققین کے مطابق SARS-COV2 سازگار ماحول میں بہت زیادہ متحرک رہتا ہے تاہم عام استعمال کے جراثیم کش محلول اسے باآسانی ختم کر سکتے ہیں۔تحقیق کے دوران محققین نے اس بات کا اندازہ لگانے کی کوشش کی کہ یہ ایک کمرے کے درجہ حرارت میں مختلف تہوں پر کتنی دیر تک متحرک رہتا ہے اس دوران یہ بات سامنے آئی کہ یہ وائرس پرنٹنگ پیپرز اور ٹشو پر تین گھنٹے سے بھی کم عرصے تک رہا ، لکڑی اور کپڑے پر یہ دوسرے دن ختم ہو گیا تھا۔شیشے اور بینک نوٹوں پر دوسرے بھی اس کی موجودگی دیکھی گئی تاہم چوتھے تک اس وائرس کی ان پر موجودگی نہیں ملی تاہم اسٹیل اور پلاسٹک پر یہ چار سے سات دن تک موجود رہا۔محققین کے مطابق فیس ماسک کی پہلی تہہ پر اس کی موجود سات دن کے بعد بھی دیکھی گئی اور یہ اس وقت بھی متحرک تھا۔تحقیق میں شامل ایک محقق ملک پائرس نے کہا کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر آپ سرجیکل ماسک پہنتے ہیں تو اس کی بیرونی تہہ پر ہاتھ نہ لگائیں کیونکہ اس سے آپ اپنے ہاتھوں پر وائرس کا منتقل کر سکتے ہیں جو کہ اگر آنکھ پر لگیں گے تو آپ متاثر ہو جائیں گے۔محققین کا کہنا ہے کہ تقریباً تمام ہی تہوں پر اس وائرس کے ارتکاز میں فوری طور پر کمی دیکھی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…