جمعہ‬‮ ، 19 جون‬‮ 2026 

حفاظتی لباس نہ ہونے کے باعث متعدد ڈاکٹرز اور نرسز کرونا کا شکار، اپنی جیب سے کیا کچھ خرید رہے ہیں؟ پاکستانی ڈاکٹرز آخر بول پڑے

datetime 1  اپریل‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان میں بھی ڈاکٹرز، نرسز اور پیرا میڈیکل سٹاف دنیا بھر کی طرح کرونا وائرس کے خلاف ہراول دستے کے طور پر کام کر رہا ہے۔ پاکستانی ڈاکٹرز اور دیگر سٹاف کو اس مہلک وائرس کے خلاف حفاظتی لباس اور دیگر سامان مناسب تعداد میں نہیں دیا گیا جس سے ڈاکٹرز اور دیگر عملہ بھی کرونا وائرس کا شکار ہونا شروع ہو گیا ہے۔

ایک نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پنجاب نے بتایا کہ صوبہ پنجاب میں اب تک 9 ڈاکٹر اور 5 نرسز کرونا وائرس کا شکار ہو چکے ہیں جبکہ متعدد دیگر ڈاکٹرز کی رپورٹس کا بھی انتظار ہے، اس کے علاوہ ہسپتالوں میں حفاظتی لباس کی کمی بدستور جاری ہے۔ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر سلمان حسیب کا کہنا ہے کہ کرونا مریضوں کا علاج کرتے ہوئے گجرات میں 5، ڈیرہ غازی خان میں 2 جبکہ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی اورڈی ایچ کیو راولپنڈی میں ایک، ایک ینگ ڈاکٹر کرونا کا شکار ہو چکے ہیں، متعدد دیگرڈاکٹروں میں بھی کرونا کا شبہ ہے، جن کی رپورٹس ابھی آنی ہیں، انہوں نے بتایا کہ پانچ نرسز میں کرونا کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 10 سے زیادہ نرسز میں علامات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب اس وقت ہیلتھ پروفیشنلز کے لیے خطرناک ترین صوبہ بن چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دوسری جانب بلوچستان میں بھی کورونا وائرس کے خلاف فرنٹ لائن پر کام کرنے والے ڈاکٹروں اور طبی عملہ کے لئے حفاظتی کٹس اور بنیادی سہولیات ہی میسر نہیں ہیں، اسی وجہ سے کوئٹہ میں پانچ ڈاکٹرز اس کرونا وائرس کا شکار بھی ہوچکے ہیں اور بہت سارے ڈاکٹرز کو اس وائرس کے لگنے کا اندیشہ ہے۔ شیخ زید ہسپتال کوئٹہ میں ڈاکٹروں اور دیگر عملے کے لئے حفاظتی کٹس کا بندوبست ہے لیکن صوبے کے دیگر ہسپتالوں اور صحت کے مراکز میں ڈاکٹرز اور طبی عملہ حفاظتی لباس اور دیگر سہولیات سے محروم ہے۔ ڈاکٹرز نے بتایا کہ جتنے ماسک اور گلوز ہیں وہ اپنے پیسوں سے لے رہے ہیں اور اب وہ مارکیٹوں میں بھی نہیں مل رہے۔ دوسری جانب چیف سیکرٹری بلوچستان فضیل اصغر کا کہنا ہے کہ ڈاکٹرز کے لئے 60 ہزار مزید پی پی ای چند روز میں کوئٹہ پہنچ جائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



فلم میں بھی ہارنے سے انکار


یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…