پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

کلوروکوئن کی فروخت کیلئے ڈاکٹر کا نسخہ لازمی قرار دیدیا گیا 

datetime 24  مارچ‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)کووِڈ-19 کے ممکنہ احتیاطی علاج کے طور پر متعدد افراد کی جانب سے کلوروکوئن کے استعمال کی رپورٹ موصول ہونے پر ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈریپ) نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ یہ دوا جگر کو بری طرح نقصان پہنچا سکتی ہے اور دل کے دورے کا بھی سبب بن سکتی ہے۔ڈریپ کے چیف ایگزیکٹو افسر ڈاکٹر عاصم رؤف نے بتایا کہ افسوس کی بات ہے کہ

لوگوں نے طبی ماہرین کے مشورے کے بغیر ہی دوا کا استعمال کرنا شروع کردیا ہے ہم ان کو خبردار کرنا چاہتے ہیں کہ اس دوا کے خطرناک سائیڈ ایفیکٹس ہیں جس کی وجہ سے ہم نے فیصلہ کیا کہ اسے ان ادویات کی فہرست میں شامل کردیں جو ڈاکٹر کے نسخے پر فروخت کی جاتی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ کنٹرولڈ ادویات کی طرح میڈیکل اسٹورز کو کلوروکوئن فروخت کرنے پر ماہرِ طب کے نسخے کی نقل اپنے پاس رکھنی ہوگی۔انہوںنے کہاکہ ہم نے دوا کا ذخیرہ لینا شروع کردیا ہے اور ہمارے ریکارڈ کے مطابق اس وقت مارکیٹ میں ڈھائی کروڑ گولیاں اور 9 ہزار کلوگرام خام مال موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ذخیرہ ایک سال تک چل سکتا ہے تاہم عوام کی جانب سے بلاجواز خریداری اور ذخیرے سے مارکیٹ میں کمی ہوسکتی ہے۔ڈاکٹر عاصم رؤف نے کہا کہ ڈاکٹر کی ہدایت کے بغیر کلوروکوئن کا استعمال اعضائے رئیسہ مثلاً جگر اور دل کو نقصان پہنچا سکتا ہے کیوں کہ یہ ایک زہریلی دوا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…