بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

کورونا وائرس کی ویکسین  کی تیاری کیلئے کتنا عرصہ درکاری ہے ؟ دوا ساز کمپنیوں نے فیصلہ سنا  دیا 

datetime 20  مارچ‬‮  2020 |

اسلام آباد(  آن لائن )دوا ساز کمپنیوں کے ماہرین نے امید ظاہر کی ہے کہ کورونا وائرس کی ویکسین تیار کرنے میں 12 سے 18 ماہ لگ سکتے ہیں۔ دوساز کمپنیوں کے سربراہان اور بین الاقوامی فیڈریشن آف فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز اور ایسوسی ایشن نے جنیوا میں منعقدہ ایک ورچوئل پریس کانفرنس میں بتایا کہ اگرچہ ویکسین کی تیاری کے عمل میں قدرے تیز کیا جا سکتا ہے لیکن لیکن ٹیسٹینگ کے نتائج میں

وقت درکار ہوگا۔آئی ایف پی ایم اے کے صدر ڈیوڈ رکس نے یقین دلایا کہ ٹیکنالوجی کی مدد سے وائرس پر قابو پانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔واضح رہے کہ دنیا بھر میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 9 ہزار سے زائد ہے جبکہ 2 لاکھ 17 ہزار متاثرین ہیں۔سونوفی پاسچر کے ایگزیکٹو نائب صدر ڈیوڈ لوئیو نے کہا کہ جب آپ یہ سوچتے ہیں کہ ہم کتنے لوگوں کو ویکسین پلائیں گے، ایک مرتبہ ہمارے پاس ویکسین ہوگی تو ہم پوری دنیا میں اربوں لوگوں کو ویکسین کی فراہمی کی بات کررہے ہوتے ہیں اور یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔انہوں نے کہا کہ ‘ہمیں حفاظتی اقدام کو یقینی بنانا ہوگا، اس وقت تک 12 سے 18 ماہ لگیں گے’۔واضح رہے کہ ویکسین کی تیاری کے لیے دنیا بھر میں درجنوں کلینیل ٹرائلز جاری ہیں۔لیکن ادویہ سازصنعتوں کے سربراہوں نے کہا کہ وہ ٹیسٹنگ معیار کو نہیں گرا سکتے۔انہوں نے کہا کہ ‘آپ تیار ہونے والی ویکسین کو صحتمند لوگوں میں بھی لگائیں گے لہذا آپ نہیں چاہیں کہ لوگ محض اس لیے اچانک بیمار پڑ جائیں کیونکہ آپ نے ٹیسٹنگ معیار پر سمجھوتہ کیا’۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر لوگ ویکسینیشن پر اعتماد کھو دیتے ہیں تو اس سے دیگر ویکسینوں پر بھی مضر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔خیال رہے کہ کورونا وائرس کا اب تک کوئی علاج منظور نہیں ہوا ہے لیکن محقیقن پہلے سے موجود علاج کے طریقوں پر تحقیق کررہے ہیں اور تجرباتی علاج پر کام کررہے ہیں، زیادہ تر مریضوں کو صرف معاون طبی سہولت فراہم کی جارہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…