بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

جراثیم آنکھ، ناک اور منہ کے ذریعے جسم میں داخل ہوسکتے ہیں اس لئے یہ عادت ترک کریں ، طبی ماہرین نے انتباہ کر دیا

datetime 16  مارچ‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی)ماہرین نے کورونا وائرس کے پیش نظرچہرے کو بار بار چھونے کی عادت کو انتہائی خطرناک قراردے دیاہے۔طبی ماہرین نے تنبیہ کی ہے کہ چہرے کو باربار چھونے سے آنکھ، ناک اور منہ کے ذریعے جراثیم ہمارے جسم میں داخل ہو سکتے ہیں۔

اس وقت جب کہ کورونا وائرس کی دہشت نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے تو اس سے بچائو کے لیے سب سے زیادہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر زور دیا جا رہا ہے ۔ اس حوالے سے طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کورونا سے بچائو کے لیے ہرصورت میں چہرے کو بار بار چھونے کی عادت کو ترک کردیں۔ممتاز ماہر نفسیات ڈاکٹر شکیل شہزاد نے اس حوالے سے بتایا کہ انسان سب سے زیادہ اپنے چہرے کو چھوتا ہے کیونکہ اکثر اوقات چہرے کو چھونے کا فعل انسان کو سکون فراہم کرتا ہے ۔دوسری طرف طبی ماہرین بار بار خبردار کررہے ہیں کہ اب ا س عادت کو ترک کرنا ہوگا کیوں کہ چہرے کو بار بار چھونے سے ہماری آنکھ، ناک اور منہ کے ذریعے جراثیم ہمارے جسم میں داخل ہوسکتے ہیں۔ صدر پاکستان اکیڈمی آف فیملی فزیشنز ڈاکٹر طارق میاں نے بتایا کہ اگرچہ کورونا وائرس ایک انسان سے دوسرے انسان کو اس وقت لگتا ہے جب کسی متاثرہ شخص کی ناک یا منہ سے چھینٹے اڑ کر دوسروں پر گرتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ یہ وبا ایسی صورت میں بھی لاحق ہوسکتی ہے جب ہم کسی ایسی چیز کو چھوتے ہیں جس پر وائرس پہلے سے موجود ہو، اس تناظر میں چہرے کو چھونے سے اس بات کے بہت زیادہ امکانات ہوتے ہیں کہ یہ آنکھ ، ناک یا منہ کے ذریعے جسم میں داخل ہوجائے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…