جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان ہاؤس میں قرنطینہ کیے گئے 1500 زائرین کلیئر قرار، روانگی کی اجازت دے دی گئی

datetime 13  مارچ‬‮  2020 |

تفتان/کوئٹہ(این این آئی)پاکستان ہاؤس میں قرنطینہ میں رکھے گئے 1500 زائرین کو کلیئر قرار دے کر روانہ کردیا گیا۔لیویز حکام کے مطابق تفتان میں پاک ایران بارڈر کے ذریعے بلوچستان آنے والے ان زائرین کو 15 دن تک قرنطینہ میں رکھا گیا جس میں ان کی مکمل نگرانی کی گئی۔لیویز حکام نے بتایا کہ تمام 1500 زائرین کی نگرانی کے دوران ان میں کورونا وائرس کی کوئی علامات سامنے نہیں آئیں

اور نہ ہی کوئی مشتبہ کیس رپورٹ ہوا جس کے بعد زائرین کو گھروں کو جانے کی اجازت دے دی گئی۔دوسری جانب بلوچستان حکومت نے ایران سے آنے والے دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والے زائرین کو تفتان میں رکھنے سے انکار کردیا۔بلوچستان حکومت کے مطابق ایران سے تفتان کے راستے ملک میں داخل ہونے والے ان زائرین کو جن کا تعلق بلوچستان سے نہیں ہوگا انہیں بحفاظت متعلقہ صوبے کی سرحد تک پہنچا کر اس صوبے کی انتظامیہ کے حوالے کردیا جائے گا۔ متعلقہ صوبے ان زائرین کا ٹیسٹ اور قرنطینہ میں رکھنے کے ذمہ دار ہوں گے۔گزشتہ روز وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے بتا تھا کہ ایران سے تفتان سرحد کے ذریعے اب تک 6 ہزار سے زائد افراد پاکستان آچکے ہیں۔واضح رہے کہ حکام نے ایران میں کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلنے کے بعد 23 فروری کو تفتان میں پاک ایران بارڈر بند کرنے کا فیصلہ کیا جو تاحال بند ہے ، ایران سے آنے والے زائرین کو قرنطینہ میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔تفتان کے پاکستان ہاؤس میں قرنطینہ میں رکھے گئے زائرین کی تعداد چارہزار سے زائد ہوچکی تھی جس کے باعث دیگر زائرین کو پاکستان ہاؤس سے دوسری جگہ منتقل کیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…