جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

کالا موتیا اور دماغی امراض کیلئے استعمال ہونیوالی دوا ناپید! 47روپے میں  30 گولیوں کی ڈبی اب ایک ہزار روپے میں بکنے لگی ،لاکھوں مریضوں کی زندگیاں دائو پر لگ گئیں

datetime 17  فروری‬‮  2020 |

لاہور(آن لائن)کالا موتیا اور دماغی امراض کیلئے استعمال ہونے والی دوا ایسیٹازولا مائیڈ ناپید ہوچکی ہے، مارکیٹ میں بلیک میں فروخت ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ کالا موتیا کے مریضوں کو دوا کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

اے زیڈ ایم کی 30 گولیوں کی ڈبی کی قیمت 47 روپے ہے، ایسی موکس کی 30 گولیوں کی قیمت 50 روپے ہے جبکہ دایا موکس کی 30 گولیوں کی قیمت 40 روپے ہے، دوا ساز اداروں کو ڈریپ سے دوا کی قیمت کم ملنے اور خام مال مہنگا ہونے کی وجہ سے اس کی پروڈکشن کو کم کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے مارکیٹ میں دوا کی قلت پیدا ہو چکی ہے، بلیک میں اس کی فروخت جاری ہے۔ذرائع کے مطابق 47 روپے قیمت والی دوا اے زیڈ ایم کی ڈبی 700 سے ایک ہزار میں فروخت ہو رہی ہے۔ اس حوالے سے پاکستان فارماسیوٹیکل مینو فیکچرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عزیر ناگرا کا کہنا تھا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے اس دوا کی قیمت کم کر دی گئی ہے اور اسکا خام مال پہلے سے بہت مہنگا ہو چکا ہے جس کی وجہ سے دوا ساز اداروں کی جانب سے اس کی پروڈکشن کم کی جا رہی ہے۔میڈیکل سٹور مالکان کا کہنا ہے کہ اس کی مانگ بہت زیادہ ہے اور اسی وجہ سے اس کو بلیک کر کے مہنگے داموں فروخت کیا جا رہا ہے، چیف ڈرگ کنٹرولر پنجاب منور حیات کا کہنا ہے کہ تمام ڈرگ انسپکٹرز کو ہدایت جاری کی ہے کہ اس دوا کی بلیک میں فروخت کو روکا جائے، اگر بلیک یا مہنگے داموں فروخت کرتا کوئی بھی ڈسٹری بیوٹر، ہول سیلر یا دکاندار پکڑا گیا تو اسکے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…