جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

کورونا وائرس شناخت کرنے والی اسمارٹ فون لیبارٹری تیار،خصوصیات بھی سامنے آگئیں

datetime 10  فروری‬‮  2020 |

سنسناٹی(این این آئی) سنسناٹی یونیورسٹی کے ماہرین نے ایک چھوٹی سی تجربہ گاہ بنائی جو ایک کارڈ پر سماسکتی ہے اور یہ فوری طور کورونا وائرس، ملیریا اور دیگر امراض کے جراثیم اور وائرس کی پہچان کرسکتاہے۔ اس کارڈ کو کسی بھی اسمارٹ فون سے جوڑ کر لیبارٹری کا نتیجہ ڈسپلے پر دیکھا جاسکتا ہے۔وائرس کی شناخت کے لیے ایک مرتبہ استعمال کے قابل پلاسٹک کا ٹکڑا مریض کو منہ میں رکھنا ہوتا ہے

جس پر لعاب جمع ہوتا ہے۔ اس کے بعد اس کی جانچ کے لیے ایک خاص ڈبے میں رکھا جاتا ہے اور یہ نظام فوری طور پر وائرس کی شناخت کرکے اس کی خبر اسمارٹ فون کو دیتا ہے۔حیرت انگیز طور پر یہ ملیریا، کورونا وائرس، ایچ آئی وی، لائم کے مرض اور دیگر کئی امراض کی شناخت کرسکتا ہے۔ لیکن ماہرین کا دعویٰ ہے کہ ان کا بنایا ہوا آلہ ڈپریشن اور ذہنی تناؤ جیسے امراض کی شناخت بھی کرسکتا ہے۔ اس کا نتیجہ ایپ کے ذریعے آپ کے ڈاکٹر کو بھی روانہ کیا جاسکتا ہے۔یونیورسٹی کے ماہر چونگ آہن اور ان کے ساتھیوں نے اسے ملیریا کے لیے کامیابی سے ٹیسٹ کیا ہے تاہم اسے دیگر کئی امراض کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے، یہاں تک کہ یہ ذہنی تناؤ والے ہارمون کی کمی بیشی بھی شناخت کرلیتا ہے۔ پروفیسر آہن نے بتایا کہ مرض کی علامات ظاہر ہونے کے کئی گھنٹوں سے  لے کر دنوں قبل تک بھی یہ وائرس کی شناخت کرلیتا ہے۔ اس اہم کام کی تفصیلات نیچر کے جرنل برائے مائیکروسسٹم اور نینوانجینئرنگ میں شائع ہوئی ہیں۔کارڈ پر بیماریاں شناخت کرنے والی اس تجربہ گاہ میں لعاب چپک جاتا ہے تو وہ دو باریک چینل میں جاتا ہے اور جہاں منجمد اینٹی باڈیز اور روشنی خارج کرنے والا منجمد مٹیریل شامل کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد تھوک کے دونوں نمونے دوبارہ جمع کرکے تین سینسر تک پہنچتے ہیں۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…