جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

کینسر،ہارٹ اور دماغ کی پیچیدہ بیماریوں کے حوالے سے سورہ الرحمن بہترین تھراپی قرار، کوئی نعم البدل نہیں، شاندار اعلان کر دیا گیا

datetime 9  فروری‬‮  2020 |

لاہور(نیوز ڈیسک) قرآن کریم پور ی انسانیت کی ہدایت اور فلاح کا ذریعہ ہونے کے ساتھ ساتھ بیماریوں کی شفا کا بھی منبع ہے خصوصا سورہ رحمن کی تاثیر بہت سے پیچیدہ اور موذی امراض کی صحتیابی میں ثابت ہو چکی ہے۔ دنیا کے سائنسدان اور ڈاکٹرز قراآن پاک کی آیات پر جتنی زیادہ ریسرچ کر رہے ہیں اتنی ہی حقانیت ثابت ہوتی جا رہی ہے اور آج کے سائنسی دور میں لوگ روحانیت کی طرف واپس آرہے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار سور الرحمن سننے اور پڑھنے سے مریضوں کی شفا یابی کی اہمیت پر لاہور جنرل ہسپتال میں منعقدہ خصوصی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر اور دیگر مقررین نے کیا۔ا س سیمینار کا عنوان “سور الرحمن سے علاج۔۔متھ یا حقیقت” تھا جس سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز اسلام آباد کی ہارٹ سرجن ماہ رخ خان،سروسز ہسپتال کے انتہائی نگہداشت کے کنسلٹنٹ ڈاکٹر محمد جاوید،لاہوریونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز کے شعبہ مالی کیولر بائیو لوجی کے سائنسدان ڈاکٹر محمد طارق اور ڈائریکٹر ایس اینڈ آئی ارم حمید سمیت مختلف مقررین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سور الرحمن کے انسانی دماغ کے خلیات اور بیکٹیریا پر خصوصی اثرات سامنے آئے ہیں اور بالخصوص کینسر،ہارٹ اور دماغ کی پیچیدہ بیماریوں کے حوالے سے سور الرحمن بہترین تھراپی ثابت ہوئی ہے جس کا کوئی اور نعم البدل نہیں۔اپنے خطاب میں پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر کا کہنا تھا کہ قرآن پاک آفاقی علم کا منبع ہے اور اس الہامی کتاب کا ایک ایک حرف صداقت پر مبنی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن پاک ہی سب سے بڑا علم ہے جس کا کوئی اور علم مقابلہ نہیں کر سکتا۔پروفیسر الفرید ظفر نے بتایا کہ حال ہی میں کینیڈا کے متعدد گائناکالوجسٹ اور مختلف ممالک میں میڈیکل سائنس سے وابستہ ماہرین قرآن پاک کے مطالعہ اور تحقیق سے مشرف بہ اسلام ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ ہم سوسائٹی کو قرآن پاک کے اصولوں کے مطابق ریفارم کریں۔ پرنسپل پی جی ایم آئی نے کہا کہ سور الرحمن کی افادیت اور مریضوں کے علاج معالجے کے حوالے سے اس کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔سائنس اور ریسرچ بھی اس امر کی تصدیق کر چکی ہے کہ سور الرحمن سے نہ صرف ذہنی سکون ملتا ہے بلکہ مریضوں کو حیرت انگیز طور پر شفا نصیب ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم صدقے اور دعاں کے ذریعے اپنی آفتوں کو ٹال سکتے ہیں

اور مسلمانوں کے علاوہ غیر مسلم کمیونٹی بھی سور الرحمن سننے اور اس کے اثرات کی قائل ہو چکی ہے۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے دیگر مقررین کا کہنا تھا کہ جسمانی بیماری بہت چھوٹی چیز ہے اصل بیماری سو چ کی ہے کیونکہ منفی سوچ یا غلط خیالات کے رد عمل سے جنم لینے والی بیماریاں جسم کو دیمک کی طرح چاٹ لیتی ہیں اور بلا شبہ قرآن پاک اور سور الرحمن انسان کی اندر سے تطہیر اور علاج کا باعث بنتی ہے۔اس سیمینار میں ڈاکٹر،نرسز اور پیرا میڈیکل سٹاف کے علاوہ مریضوں اور ان کے لواحقین نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی اور اس طرح کے مذہبی موضوعات پر سیمینار کے انعقاد کو سراہا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…