جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

کرونا وائرس چمگادڑ سے براہ راست انسانوں تک نہیں پہنچا بلکہ کس جانور نے آگے پہنچانے کا کام کیا ؟اصل وجہ تو اب سامنے آئی،تہلکہ خیز انکشافات

datetime 8  فروری‬‮  2020 |

بیجنگ(این این آئی) چین کے سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک بھر میں کرونا وائرس کے پھیلنے میں پینگولن پر شک ظاہر کیا ہے اور کہا ہے کہ معدومیت کے خطرے سے دو چار جانور پراسرار کرونا وائرس کو انسان میں منتقل کرنے کا سبب بنا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کی ساوتھ چائنا ایگریکلچر یونیورسٹی کے محققین نے اس پراسرا وائرس کو انسانوں میں منتقل کرنے کا شبہ پرت دار جانور پینگولن پر ظاہر کیا البتہ انھوں نے مزید کوئی معلومات جاری نہیں کی ہیں۔نئے وائرس کے حوالے سے خیال کیا جارہا ہے کہ چمگادڑوں سے آگے پھیلا تاہم محققین کہتے ہیں کہ وائرس چمگادڑ سے براہ راست انسانوں تک نہیں پہنچا بلکہ درمیان میں کسی اور جانور نے وائرس کو آگے پہنچانے کا کام کیا ہے۔چین کے سائنسدانوں نے جاننے کیلئے 1000 سے زائد جنگلی جانوروں کے نمونے حاصل کیے جن کے مشاہدے سے معلوم ہوا کہ پینگولن میں موجود وائرس کے کروموسوم کی ترتیب کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کے کروموسوم کی تربیب سے 99 فیصد تک مماثلت رکھتے ہیں۔بین الاقوامی یونین برائے تحفظِ قدرت (آئی یو سی این) کے مطابق پینگولن کو دنیا میں سب سے زیادہ سمگل کیا جانے والا جانور تصور کیا جاتا ہے، افریقا اور ایشیا میں پچھلے کئی سالوں میں 10 لاکھ سے زائد پینگولن کو پکڑا جاچکا ہے۔چین اور ویت نام کی بازاروں میں پینگولن خرید و فروخت کے لیے بھیجے جاتے ہیں، پینگولن کے جسم پر موجود چھلکوں کا کوئی طبی فائدہ نہیں ہے مگر اس کے باوجود اس کے ان کے چھلکوں کو ادویات میں استعمال کیا جاتا ہے جبکہ اس کے گوشت کو بلیک مارکیٹ میں فروخت کیا جاتا ہے۔ماہرین نے چین کے سائنس دانوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سے متعلق مزید معلومات فراہم کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…