پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

بھارت میں حمل ضائع کرنے کے قانون کی منظوری

datetime 30  جنوری‬‮  2020 |

نئی دہلی(آن لائن )بھارت نے ریپ اور دیگر خطرات کا شکار خواتین کے لیے اسقاط حمل قانون میں آسانی پیدا کرتے ہوئے 24 ہفتوں کے حمل کو ضائع کرنے کی اجازت کی منظوری دے دی۔ غیر ملکی خبر رسا ں ادارے کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں لاگو موجودہ قانون 20 ہفتوں کے بعد اسقاط حمل کی اجازت نہیں دیتا۔

یہی وجہ ہے کہ خواتین کچھ خطرناک ادویات اور دیگر طریقوں سے حمل کو ضائع کروانے کی غرض سے اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال دیتی ہیں۔حالیہ سالوں میں ریپ سے بچ جانے والی اور اسمگلنگ کا نشانہ بننے والی خواتین کی بڑی تعداد نے 20 ہفتوں کے بعد اسقاط حمل کی اجازت کے لیے عدالت سے رجوع کیا۔خیال رہے کہ 2017 میں ریپ کا نشانہ بننے والی 10 سالہ لڑکی کی 20 ہفتوں کے بعد اسقاط حمل کی درخواست کو سپریم کورٹ نے مسترد کردیا تھا جس کے بعد اس نے بیٹی کو جنم دیا تھا۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اسقاط حمل قانون کی منظوری دیتے ہوئے اسے ‘پروگریسو ریفارم’ کا نام دیا۔ایک پریس کانفرنس کے دوران سینئر وزیر پرکاش جاوڈیکر کا کہنا تھا کہ ‘اس قانون کی منظوری دینا اس لیے ضروری تھا کیوں کہ ایسے کئی واقعات سامنے آچکے ہیں جہاں لڑکی کو شروعات کے 5 ماہ یہ پتا نہیں چل پاتا کہ وہ حاملہ ہے، جس کے بعد اسے عدالت سے رجوع کرنا پڑتا ہے’۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اس قانون سے زچگی کے دوران ہونے والی اموات میں کمی ہوگی۔آئپس ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن کی 2017 میں سامنے آئی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ ایک اندازے کے مطابق بھارت میں ہر سال 64 لاکھ اسقاط حمل کیے جاتے ہیں، ان میں نصف سے زیادہ میں غیر محفوظ طریقوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…