جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

بڑے شہر میں کورونا وائرس کے 8 مشتبہ کیسز رپورٹ، دو مریضوں کلیئر قرار

datetime 28  جنوری‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی)کراچی میں کورونا وائرس کے مشتبہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں سے ایک بھی پازیٹو نہیں آیا جبکہ کوئی کیس عالمی ادارہ صحت کی جانب سے کورونا وائرس کی بیان کردہ تعریف پر پورا نہیں اترتا۔ڈی جی صحت سندھ نے مشتبہ کیسز پر سرویلینس سیل کو مذید فعال کرتے ہوئے تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔صوبائی محکمہ صحت کی ترجمان میران یوسف کے مطابق

آغا خان یونیورسٹی اسپتال نے محکمہ صحت سے 25جنوری کو رابطہ کیا اور بتایا کہ ان کے پاس کورونا وائرس کے مشتبہ کیسز سامنے آئے ہیں، مجموعی طور پر 8 مشتبہ کیسز آغا خان یونیورسٹی اسپتال میں رپورٹ ہوئے ہیں جو چینی باشندے ہیں۔ان میں سے 5 مشتبہ کیسز کو یونیورسٹی نے بیماری کی تعریف سے شناخت کیا جبکہ باقی تین کیسز کو 27 مریضوں کے لیے گئے نمونوں سے الگ کیا گیا۔اس صورتحال پر محکمہ صحت کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ان آٹھ مشتبہ کیسز میں سے ایک نے چین کا سفر نہیں کیا تاہم چینی باشندوں سے رابطہ و میل جول رکھا جبکہ باقی سات نے جنوری میں چین کا سفر کیا اور ان تمام افراد کو نزلہ تھا۔سات افراد کراچی نیوکلیر پاور پلانٹ (کینپ)پر ملازم ہیں جن میں سے 4 کو صحت مند ہونے پر اسپتال سے ڈس چارج کر دیا گیا ہے جبکہ ایک مریض ڈاکٹروں کی تجویز کے برخلاف علاج مکمل کیے بغیر روانہ ہوگیا۔رپورٹ کے مطابق باقی دو مریضوں کو کلیئر قرار دیا گیا جن کو کورونا وائرس نہیں لیکن ان کا آبزرویشن کے بعد علاج کیا جارہا ہے۔محکمہ صحت کی ترجمان میران یوسف کے مطابق ان دو داخل مریضوں کے خون کے نمونے لے کر قومی ادارہ برائے صحت اسلام آباد بھیجے گئے ہیں تاہم ان کے پاس کورونا وائرس کی تشخیص کی سہولت نہ ہونے پر چین سے کِٹس منگوائی گئی ہیں جن کے آنے کے بعد مذید کچھ کہا جاسکے گا، انہوں نے کہاکہ اس دوران مریضوں کی صحت مندی پر انہیں گھر بھیج دیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق مشتبہ کیسز کراچی نیوکلیر پاور پلانٹ سے سامنے آئے ہیں جہاں بڑی تعداد میں چینی باشندے رہائش پذیر ہیں۔کیسز مشتبہ ہونے پر درجنوں چینی شہریوں نے اتوار کو آغا خان یونیورسٹی اسپتال سے اپنا معائنہ کرایا جن کی کونسلنگ کی گئی اور تسلی کرائی گئی کہ انہیں وائرس نہیں اس لیے خوفزدہ نہ ہوں۔ذرائع کے مطابق محکمہ صحت کے حکام نے ائیرپورٹ اتھارٹی سے بھی رابطہ کیا ہے اور ممکنہ یا مشتبہ کیسز کی صورت میں تعاون اور مسافروں کی فہرست کے تبادلے پر اتفاق کیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسپتال اور محمکہ صحت کے افسران میں رابطہ مذید بہتر کیا گیا ہے جس سے کیسز کے ڈیٹا کی نگرانی کا نظام موثر ہوا ہے جبکہ اس ضمن میں جاری ہیلتھ ایڈوائزری کو صحت کی سہولتیں فراہم کرنے والے تمام اداروں کے ساتھ بات چیت کی گئی ہے۔رپورٹ میں عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ ممکنہ علامات ظاہر ہونے پر 24 گھنٹوں تک گھر پر رہیں جب تک بخار ختم نہ ہو جائے، ایک دوسرے سے زیادہ قربت و میل جول سے گریز کریں، کھانستے وقت منہ اور ناک کو ٹشو پیپر سے ڈھانپ لیں، ہاتھوں کو صابن سے دھوئیں، ملاقاتیں محدود کردیں، جن اشیا کو چھوئیں انہیں انفیکشن دور کرنے والے محلول سے صاف کرلیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…