منگل‬‮ ، 10 مارچ‬‮ 2026 

دماغ لوگوں کو موت کے خوف سے کیسے دور رکھتا ہے؟ماہرین کی حیران کن تحقیق

datetime 25  دسمبر‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی)دنیا بھر میں اکثر سننے کو ملتا ہے کہ فلاں شخص کا دماغ بہت ہی بہتر ہے جس کی وجہ سے وہ شخص کامیابی کی بلندی کی طرف جاتا ہے اسی حوالے سے دماغ کے بارے میں ایک حیران کن طبی تحقیق سامنے آئی ہے۔ جس کے مطابق دماغ لوگوں کو موت کے خوف سے دور رکھتا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ دعوی ایک تحقیق میں سامنے آیا جس میں دریافت کیا گیا کہ دماغ ایسی ڈھال کا کام کرتا ہے جو لوگوں کو موت کے خوف سے دور رکھتا ہے

اور وہ دنیا سے چلے جانے کو صرف دوسرے افراد کو پیش آنے والے واقعے کو طور پر دکھاتا ہے۔جریدے نیورو امیج میں شائع تحقیق میں شامل سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ ہمارا دماغ یہ قبول نہیں کرتا کہ موت سے ہمارا تعلق بھی ہے، یہ ایک بنیادی میکنزم ہے جسکا مطلب یہ ہے کہ جب دماغ ایسی معلومات کو حاصل کرتا ہے جو اس فرد کی موت کے بارے میں ہوں، تو وہ ہمیں احساس دلاتا ہے کہ یہ قابل اعتبار نہیں اور ہمیں اس پر یقین نہیں کرنا چاہیے۔موت کے خیالات سے بچانے کا دماغی میکنزم موجودہ لمحے میں زندہ رہنے والوں کے لیے ضروری ہوتا ہے اور تحفظ کا خیال ممکنہ طور پر بچپن سے ہمارے ذہن میں پیدا ہو جاتا ہے۔سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ وہ لمحہ جب ہمارے اندر اپنے مستقبل کو دیکھنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے، ہمیں احساس ہوتا ہے کہ کسی وقت ہم نے مرجانا ہے اور اس کے بارے میں آپ کچھ نہیں کرسکتے?، یہ خیال ہماری حیاتیاتی زندگی کے خلاف ہوتا ہے جو ہمیں زندہ رکھنے میں مدد دیتا ہے۔اس حوالے سے گہرائی میں جاکر چانچ پڑتال کے لیے سائنسدانوں نے ایک ٹیسٹ تیار کیا جو حیرت کے سگنلز دماغ میں پیدا کرسکتا تھا۔ مختلف رضاکاروں کو سکرین پر چہرے دکھائے گئے اور اس دوران دماغی سرگرمی کو مانیٹر کیا گیا۔رضاکاروں کے اپنے چہرے یا کسی اور اجنبی کے چہرے کو سکرین پر کئی بار دکھایا گیا اور چہروں کے ساتھ کئی الفاظ بھی لکھے تھے، جن میں سے 50 فیصد کا تعلق موت سے جڑے معاملات جیسے تدفین، آخری رسومات وغیرہ سے تھا۔

سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ جب کسی فرد کو اپنے چہرے کے ساتھ موت سے متعلق الفاظ لکھے نظر آئے تو دماغ نے اپنا پیشگوئی کرنے والا سسٹم ہی بند کر دیا اور اپنی ذات کی موت کے تعلق کو مسترد کردیا جبکہ کسی قسم کے سرپرائز سگنلز بھی ریکارڈ نہیں ہوئے۔محققین کا کہنا تھا کہ اس سے عندیہ ملتا ہے کہ ہماری ذات کو خوف سے تحفظ ملتا ہے یا شعوری طور پر یہ خیال کہ ہمیں ایک دن مرنا ہے، مستقبل کی پیشگوئی کرنے والے نظام کو ہی بند کر دیتا ہے یا اس معلومات کی ایسی درجہ بندی کرتا ہے کہ وہ اپنی ذات کی بجائے دیگر افراد کے بارے میں لگنے لگتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یقینا ہم شعوری طور پر یہ تردید نہیں کرتے کہ ہم نے مرنا ہے، مگر ہم یہ سوچتے ہیں کہ یہ اسیا عمل ہے جو دیگر افراد کو پیش آنا ہے۔ یہ دفاع لوگوں کو اپنی زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے خطرات مول لینے میں مدد دیتا ہے کیونکہ اگر موت کا خوف طاری رہے گا تو وہ پھر کچھ بھی نہیں کرسکیں گے۔



کالم



مذہبی جنگ


رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…