جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

پولیو کے تدارک کیلئے حکومتی کوششوں اور دعوئوں کے باجود پولیو وائرس پر قابو نہ پایا جاسکا،تشویشناک صورتحال نے حکومت کے ہوش اڑا دئیے

datetime 18  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن) پولیو کے تدارک کیلیے حکومتی کوششوںاور دعووں کے باجود پولیو وائرس پر قابو نہ پایا جاسکا۔رواں سال کے اختتام تک پولیو وائرس کی سنچری مکمل ہونے کا خدشہ ، اب تک وائلڈ پولیو وائرس کے کل86 کیسز سامنے آچکے ہیں، اس کے علاو پولیو ٹائپ ٹو وائرس کے بھی9 کیسز سامنے آچکے ہیں حالانکہ پولیوٹائپ ٹو وائرس کا 1999میں ملک سے خاتمہ ہوچکا تھا۔انسداد پولیو پروگرام کے

اعدادوشمار کے مطابق 2019 کے دوران پولیو نے ملک کے چاروں صوبوں کو اپنی لیپٹ میں لے لیا ہے۔محض اسلام آباد، کشمیر و گلگت بلتستان پولیو وائرس سے محفوظ ہیں۔ خیبر پختونخوا کے12 اضلاع ،بنوں، ہنگو، ڈی آئی خان، شانگلہ، طورغر، لکی مروت، چارسدہ ،باجوڑ، خیبر ، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اور ٹانک میں پولیو کے کل 64 کیسز سامنے آئی ہیں جن میں سے محض بنو ں میں پولیو کے23 کیسز رجسٹر ہوئی ہیں۔صوبہ بلوچستان کے 4 اضلاع، جعفر آباد، قلعہ عبداللہ،کوئٹہ و ہرنائی میں7 کیسز سامنے آچکے ہیں۔صوبہ پنجاب کے2 اضلاع، لاہور اور جہلم میں 5 کیسز رجسٹرڈ ہوئے ہیں جبکہ صوبہ سندھ کے8 اضلاع لیاری ٹاون،گلشن اقبال،اورنگی ٹاون، لاڑکانہ، حیدر آباد، جامشورو، سجاول اور جمشید ٹائون میں پولیو کے10 کیسز سامنے آچکی ہیں۔ انسداد پولیو پروگرام کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ پاکستان میں 1999 میں اس وائرس کا خاتمہ ہوچکا تھا، پولیو کی 3 اقسام میں سے اب ٹائپ ون و ٹو کی ویکسین ہی پلئی جارہی تھیں کیونکہ عالمی ادارہ صحت نے ہی2016 میں پولیو ٹائپ ٹو کے خاتمے کا اعلان کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…