جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ڈینگی نے شہریوں کا جینا دو بھر کر دیا ،24گھنٹوں میں کتنے مریض ہسپتال جا پہنچے ، تشویشناک صورتحال

datetime 5  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن ) شہر اقتدار اور راولپنڈی کے باسیوں پر ڈینگی کا وار جاری ہے اور اس سے متاثرہ مزید 65 افراد گزشتہ 24 گھنٹوں میں ہسپتال داخل ہوئے۔جڑواں شہروں میں ڈینگی قابو سے باہر ہو چکا ہے اور اسلام اباد کے سرکاری ہسپتالوں میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں اس مرض سے متاثرہ 2 ہزار سے زائد مشتبہ مریض آئے، صرف پمز اسپتال میں گزشتہ رات سے اب تک 780 مشتبہ مریض لائے گئے ہیں۔

ہسپتال ذرائع کے مطابق پولی کلینک اور پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ڈینگی کے مزید 65 مریض داخل ہوئے ہیں۔ذرائع کے مطابق پمز میں عملے کی کمی ہے جب کہ ڈینگی کے مریضوں کا رش بڑھتا جا رہا ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ روز انسداد ڈینگی پروگرام کے فوکل پرسن ڈاکٹر رانا محمد صفدر نے کہا تھا کہ ساڑھے سات ہزار مریض وفاقی اور صوبائی ہسپتالوں سے داخل ہونے کے بعد بہترین مفت طبی سہولیات لینے کے بعد ڈسچارج ہوچکے ہیں۔انہوں نے یہ بات وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کی زیر صدارت ڈینگی وائرس کے پھیلا کی صورتحال سے متعلق اجلاس میں بتائی تھی ۔اجلاس میں وفاقی سیکرٹری ہیلتھ ڈی جی ہیلتھ ،اسپتالوں کے ایگزیکٹو ڈائریکٹرز اور جڑواں شہر کی انتظامیہ شریک ہوئی۔اجلاس میں ڈینگی وائرس کی وبا کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ ڈینگی کے مریضوں کیلئے اسلام آباد میں بہترین ڈائگناسٹک سسٹم قائم کیا ہے، اسپتالوں کے ایگزیکٹو ڈائریکٹرز او پی ڈی میں خصوصی طور پر ڈینگی کے بچا بارے مربوط آگاہی دینے کیلئے عملہ مقرر کریں۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت ڈینگی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے ، اس ضمن میں موثر اقدامات کئے جا رہے ہیں معاون خصوصی برائے قومی صحت نے کہا تھا کہ ہسپتالوں میں ڈینگی کے مریضوں کو مفت طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں ۔19ہزار مریض ہسپتالوں سے بہترین طبی سہولیات کی فراہمی کے بعد ڈسچارج ہو چکے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…