آلو بخارا کھائیں اور اس موذی مرض سے چھٹکارا پائیں ، ماہرین کی تحقیق میں حیران کن انکشاف

  جمعہ‬‮ 9 اگست‬‮ 2019  |  17:20

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)آلو بخارا مشہور پھل ہے اسے پکانے اور سکھانے کے بعد بھی کھایا جاتا ہے۔ یہ طبی اہمیت کا حامل پھل ہے۔ بخار اور بیماری کے بعد ذائقہ کو تبدیل کرنے کیلئے آلو بخاراکا استعمال عام ہوگیا ہے۔ مغربی ممالک میں اس کی ڈشزبنائی جاتی ہیں جو ذائقہ دار ہوتی ہیں آلو بخارا مشہور پھل ہے اسے پکانے اور سکھانے کے بعد بھی کھایا جاتا ہے۔ اس پھل میں چکنائی، پروٹین ، وٹامنس اے، بی، سی،کےاور ای پائے جاتے ہیں علاوہ ازیں کیلشیم ،آئرن ،پوٹاشیم ،سوڈیم اور میگنیشم بکثرت پائے جاتے ہیں۔ براون اور بلیک رنگ کے


بیضوی شکل کا یہ پھل اینٹی آکسیڈنٹ کا حامل ہے یہ کینسر کے امکان کو ختم کرتا ہے۔ یہ جسمانی اور دماغی صحت کیلئے بھی بہتر ہے۔ یہ کولیسٹرال کی شرح کو کم کرتا ہے اور جگر کی صحت کیلئے اکسیر مانا جاتا ہے۔ اس میں پوٹاشیم کی کثیر مقدار پائی جاتی ہے۔ اس لئے بی پی کو کنٹرول بھی کرتا ہے۔ رگوں اور ہڈیوں کے امراض میں مفید مانا گیا ہے۔ بدہضی، قبض کی شکایت میں آلو بخار کا استعمال کرایا جاتا ہے جس کے حیرت انگریز نتائج برآمد ہوئے ہیں اس کا شربت، گرمی کے دانوں میں توانائی فراہم کرتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق آلو بخارے کے استعمال سے خون کی کمی کی شکایت کافور ہوجاتی ہے اور یہ چھاتی کے کینسر سے بچاؤ میں معاون ہے۔ شوگر کے مریض بھی اسے ہچکچاہٹ کے بغیر کھا سکتے ہیں۔ آلو بخارے کا استعمال بالوں،جلد اور بینائی کیلئے بھی مفید ہے۔ گرمیوں میں آلو بخارے کا شربت نہ صرف تازہ دم کرتا ہے بلکہ توانائی بھی پہنچاتا ہے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

استنبول یا دہلی ماڈل

میاں نواز شریف کے پاس دو آپشن ہیں‘ استنبول یا دہلی‘ ہم ان آپشنز کو ترکی یا انڈین ماڈل بھی کہہ سکتے ہیں۔ہم پہلے ترکی ماڈل کی طرف آتے ہیں‘ رجب طیب اردگان 1954ء میں استنبول میں قاسم پاشا کے علاقے میں پیدا ہوئے‘ غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے‘ سکول سے واپسی پر گلیوں میں شربت بیچتے تھے‘بڑی مشکل ....مزید پڑھئے‎

میاں نواز شریف کے پاس دو آپشن ہیں‘ استنبول یا دہلی‘ ہم ان آپشنز کو ترکی یا انڈین ماڈل بھی کہہ سکتے ہیں۔ہم پہلے ترکی ماڈل کی طرف آتے ہیں‘ رجب طیب اردگان 1954ء میں استنبول میں قاسم پاشا کے علاقے میں پیدا ہوئے‘ غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے‘ سکول سے واپسی پر گلیوں میں شربت بیچتے تھے‘بڑی مشکل ....مزید پڑھئے‎