جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

موسمیاتی تبدیلیوں سے دنیا بھر کو 10 بڑے خطرات کا سامنا آلودگی پر قابو نہ پایا گیا تو تعداد میں کتنا بڑا اضافہ ہو جائے گا ؟

datetime 5  اگست‬‮  2019 |

واشنگٹن (این این آئی ) اقوام متحدہ کے ادراہ برائے عالمی صحت نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے دنیا بھر کو 10 بڑے خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ کے ادارہ برائے صحت (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے موسمیاتی تغیراتی تبدیلیوں کے حوالے سے رپورٹ جاری کی گئی۔

جس میں بتایا گیا کہ رواں برس ماحولیات کو خطرات لاحق ہیں جس کے باعث بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کو خطرات لاحق ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ موسمیاتی تغیراتی تبدیلیوں اور فضائی آلودگی سے ہر سال دنیا بھر میں 70 لاکھ سے زائد افراد پھپھڑوں کی خرابی، عارضہ قلب اور برین ٹیومر کی وجہ سے مررہے ہیں جبکہ دنیا بھر میں کینسر کا موذی مرض بھی تیزی سے پھیل رہا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ کے مطابق 90 فیصد اموات ایسے ممالک میں ہوتی ہیں جہاں غربت یا متوسط طبقے سے وابستہ لوگ رہتے ہیں کیونکہ ان ملکوں میں صنعتیں، ٹرانسپورٹ اور زراعت کے شعبوں موجود ہیں جبکہ بیشتر گھروں میں مضرِ صحت ایندھن سے آگ لگا کر کھانا تیار کیا جاتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں پھیلنے والی بیماریوں کی سب سے بڑی وجہ ایندھن کا جلنا ہے جسے صنعتوں اور گاڑیوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ’ایندھن کے جلنے کی وجہ سے فضائی آلودگی بڑھتی ہے‘۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر آلودگی پر قابو نہ پایا گیا تو 2030 سے 2050 کے درمیان مرنے والوں کی سالانہ تعداد 70 لاکھ سے دگنی ہوجائے گی، اسی وجہ سے مستقبل میں ملیریا کی وبا اور درجہ حرارت میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ برس اکتوبر 2018 میں عالمی کانفرنس کا انعقاد جینیوا میں کیا گیا تھا جس میں ماہرین نے فضائی آلودگی پر قابو پانے کے طریقے اور قوانین کو منظور کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…