جمعرات‬‮ ، 04 جون‬‮ 2026 

لہسن تو کھانے میں استعمال ہوتا ہی ہے لیکن کیا آپ جانتے اس کو کچا کھانے سے جسم میں کونسی حیرت انگیز تبدیلی رونما ہوتی ہے؟ جانئے

datetime 10  جولائی  2019 |

نیویارک(نیوزڈیسک)لہسن تو کھانے میں استعما ل ہوتا ہی ہے لیکن کیا آپ جانتے ہیں اسے کچا کھانے سے جسم میں کیا تبدیلی رونما ہوتی ہے ۔یہ دل کی بیماریوں اور بلڈ پریشر کو ٹھیک کرنے کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ خون گاڑھا ہونے اور کولیسٹرول بڑھنے کی وجہ سے شریانیں بند ہونے لگتی ہیں لیکن اگر لہسن استعمال کیا جائے تو خون پتلا ہونے لگتا ہے۔کئی معالجین کا ماننا ہے کہ لہسن

معدے، کولون،مثانے،پھیپھڑوں اور چھاتی کے کینسر کے لئے بھی بہت مفید ہے۔لہسن ایک مادہ ایلی سین بناتا ہے جو کہ بیماریوں کے خلاف لڑنے میں مدد دیتاہے۔ اگر آپ بھی لہسن سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں تولہسن کی ایک توڑی کو30منٹ تک منہ میں رکھیںاور اسے چوستے رہیں۔اگر چاہیں تو اسے چبا بھی سکتے ہیں اور30منٹ تک منہ میں رکھنے کے بعد اسے تھوک دیں۔جیسے جیسے یہ آپ کے تھوک میں شامل ہوکرمعدے میں جائے گااور خون میں ملے گا ویسے ویسے آپ اپنے اندر مثبت تبدیلی محسوس کریں گے۔آپ چاہیں تو بعد میں لہسن کی بدبو ختم کرنے کے لئے پیسٹ کرلیں،چاہیں تو کافی کے چند دانے بھی چبائے جاسکتے ہیں۔چینی لوگ لہسن کو کھانے کا یہ طریقہ استعمال کرتے ہیں اور اس کی وجہ سے انسانی جسم کی صفائی ہوتی ہے اور اس میں سے زہریلے مادے نکل جاتے ہیں۔یہ طریقہ خون،گردوں،پھیپھڑوں اور معدے کو صاف کرکے دل کو مضبوط کرتا ہے اور ساتھ ہی ہماری بھوک بڑھانے کے ساتھ مدافعتی نظام کو تقویت دیتا ہے۔اگرآپ کو شدید کھانسی یا گردوں میں پتھری کی شکایت ہوتو یہ طریقہ علاج ضرور آزمائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…