پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

پولیو کے قطرے نہ پلوانا ، ٹیم کیساتھ بدسلوکی کرنے والوں کیخلاف اب کونسی کاروائی کی جائے گی ؟ اعلان کر دیا گیا

datetime 17  جون‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن)نیشنل پولیو پروگرام نے ایسے والدین کے خلاف مقدمات درج نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلوانے سے انکار کرتے ہیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ اقدام پیر کے روز سے ملک میں شروع ہونے والی انسداد پولیو مہم کے لیے خاصی مشکلات کا سبب بن سکتا ہے۔حکومت کی جانب سے دی جانے والی سہولت شمالی وزیرستان، لکی مروت اور ضلع بنوں میں 10 فیصد یا انکار کے تقریباً

50 ہزار واقعات رونما ہونے کی توقع ہے۔اس ضمن میں وزیراعظم کے فوکل پرسن بابر بن عطا نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے 3 اضلاع میں جان بوجھ کر ماضی میں کیے جانے والے اس کام میں چھوٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے کیوں کہ ہم پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کرنے والوں کی تعداد جاننا چاہتے ہیں۔تاہم اس سلسلے میں پولیو ٹیم کے نامناسب رویوں کو بالکل بھی برداشت نہیں کیا جائے گا اور اگر کوئی پولیو ٹیم کے اراکین کے ساتھ بدسلوکی کا مرتکب ہوا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔‎ان کا کہنا تھا کہ زبردستی ویکسین نہیں پلائی جاسکتی اس کے ساتھ والدین کی رضا مندی ہونا ضروری ہے۔بابر بن عطا کا مزید کہنا تھا کہ ’ان 3 اضلاع میں 5 سال کی عمر سے کم بچوں کی تعداد تقریباً 5 لاکھ ہے، پولیو ٹیم کو ہدایت کی گئی ہے پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کا اندراج کریں اور انہیں ویکسینیشن کے لیے اصرار نہ کریں‘۔ان کا کہنا تھا کہ ’بدقسمتی سے والدین نے گھروں میں مارکر رکھے ہوئے ہوتے ہیں جس سے وہ اپنے بچوں کی انگلیوں پر خود ہی نشانات لگا لیتے ہیں لہٰذا مہم کے پہلے روز ہم والدین کو سمجھانا چاہتے ہیں کہ ویکسین ان کے بچوں کے بہترین مفاد میں ہے‘۔پولیو کی شروع ہونے والی مہم کے دوران 55 لاکھ 30 ہزار بچوں کو سندھ، 43 لاکھ 10 ہزار بچوں کو پنجاب، 13 لاکھ 20 ہزار بچوں کو بلوچستان اور 11 لاکھ بچوںکو خیبر پختونخوا میں پولیو کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔مذکورہ مہم سندھ کے 16، بلوچستان کے 13، خیبرپختونخوا کے 3 اور پنجاب کے 7 اضلاع میں منعقد کی جائے گی۔ بابر بن عطا کے مطابق ملک کے مجموعی پولیو کیسز میں 50 فیصد بنوں میں رپورٹ ہونے کے بعد ضلع کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے اس وجہ سے یہ انتہائی ضروری ہے کہ انسدادِ پولیو مہم کے دوران 5 سال سے کم عمر ہر بچے کو پولیو کے وطرے پلوائے جائیں۔ ‎



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…