پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

لاڑکانہ میں بچوں کے لیے منگوائی پیپاٹائٹس کی ویکسین اسٹورزمیں خراب ہوگئی

datetime 16  جون‬‮  2019 |

لاڑکانہ(این این آئی)بچے بیمار ہوتے رہے اور ویکسین بند کمروں میں خراب ہوتی رہی،لاڑکانہ میں اسکول کے بچوں کو ہیپاٹائٹس سے بچائو کے لیے خریدی گئیں 24 ہزار ویکسینز تاحال استعمال نہ ہوسکی ہیں۔تفصیلات کے مطابق لاڑکانہ میں اسکول کے بچوں کو ہیپاٹائٹس سے بچانے کے لیے دو سال قبل

بڑی مقدار میں حکومت نے ویکسین خریدی تھی جن کی معیاد جون 2019 کے اختتام کے ساتھ ختم ہوجائے گی۔ذرائع نے بتایاکہ ایک کروڑ روپے مالیت کی یہ ویکسین 15 روز میں ایکسپائر ہوجائے گی لیکن لاڑکانہ کے بچوں کو تاحال یہ ویکسین لگانے کے لیے کسی قسم کے اقدامات نہیں کیے جاسکے ہیں۔لاڑکانہ محکمہ صحت کے افسران نے بھانڈا پھوٹنے پر یہ ویکسین فریزر اسٹور سے نکال کر ایک عام کمرے میں چھپا دیں، جہاں یہ اپنی معیاد ختم ہونے سے پہلے ہی کنٹرولڈ درجہ حرارت نہ ہونے کے سبب خراب ہوجائیں گئی ۔دوسری جانب رابطہ کرنے پر لاڑکانہ محکمہ صحت کا کوئی بھی افسر ذمہ داری لینے کو تیار نہیں ہے ، تمام افسران ایک دوسرے پر الزام بازی کرتے رہے۔ ضلع ہیلتھ افسر عبدالرحمن بلوچ نے اس ضمن میں بتایاکہ لاڑکانہ میں غفلت کے مرتکب افسران کو شو کاز نوٹس جاری کیے ہیں اور معاملے کی انکوائری جاری ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ دنوں عالمی ادارہ صحت کی نشاندہی پر لاڑکانہ ڈسٹرکٹ کے شہر رتو ڈیرو میں بچوں میں ایچ آئی وی کا سب سے بڑا آوٹ بریک سامنے آیا تھا، جبکہ ابھی لاڑکانہ کے مزید تین تعلقے باقی ہیں جہاں اسکریننگ کا عمل شروع نہیں کیا گیا۔لاڑکانہ میں مجموعی طور پر 26 ہزار 8 سو 72 افراد کی اسکریننگ کا عمل مکمل ہوچکا ہے جس کے بعد ایچ آئی وی ایڈز کے مریضوں کی تعداد 785 ہوگئی۔ ایچ آئی وی ایڈز متاثرین میں صرف بچوں کی تعداد 646 ہے۔قومی ادارہ صحت برائے اطفال(این آئی سی ایچ)کے سربراہ و ماہرین صحت نے بتایا کہ رتو ڈیرو کی آبادی 3 لاکھ 31 ہزار ہے، ابھی تک 7 فیصد آبادی کے ایچ آئی وی ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ37سالہ تاریخ میں افریقہ، انڈیا ،تھائی لینڈ سمیت دیگر ممالک میں بچوں میں ایچ آئی وی کا اتنا بڑا آئوٹ بریک نہیں ہوا جو رتو ڈیرو میں سامنے آرہا ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…