پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

دوران حمل خواتین کو ڈپریشن کی شکایت ہوسکتی ہے،نئی تحقیق

datetime 2  جون‬‮  2019 |

نیویارک(این این آئی)سائیکولیجیکل اسسمنٹ جنرل میں شائع ہونے والی تحقیق میں کہاگیا ہے کہ دوران حمل خواتین متعدد جسمانی و جذباتی تبدیلیوں سے گزرتی ہیں۔اس دوران جسمانی تبدیلیوں کی جانب ان کا منفی رویہ بچے کی پیدائش کے بعد ڈپریشن کا باعث بن سکتا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق سائیکولیجیکل اسسمنٹ جنرل میں شائع ہونے والی تحقیق میں کہاگیاکہ جسمانی تبدیلیوں کے حوالے سے حاملہ خواتین کے احساسات سے

یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان کے پیٹ میں موجود بچے کے ساتھ تعلق کس حد تک بہتر ہوسکتا ہے اور بچے کی پیدائش کے بعد جذباتی صحت کیسی ہوسکتی ہے۔انگلینڈ کی یونیورسٹی آف یارک سے منسلک جسمانی ساخت کی ماہر نفسیات کا کہنا تھا کہ خواتین بچے کی پیدائش کے دوران اور اس کے بعد بھی اپنی ظاہری جسمانی ساخت کو لے کر مسلسل دباؤ کا شکار رہتی ہیں،اسی لیے اس بات کو یاد رکھنا ضروری ہے کہ حمل کے دوران صرف ماں اور بچے کی جسمانی صحت کا ہی خیال نہ رکھا جائے بلکہ خواتین کی جذباتی صحت کے بارے کا بھی خاص خیال رکھا جائے، جذباتی صحت ہی ہمیں یہ اہم معلومات فراہم کرسکتی ہے کہ بطور ایک نئی ماں عورت طویل مدتی تناظر میں کس طرح کا ردِ عمل پیش کرسکتی ہیں۔تحقیق کے نتائج یہ ظاہر کرتے ہیں کہ حمل کے دوران جن خواتین نے اپنی جسمانی تبدیلیوں کے بارے میں مثبت انداز میں محسوس کیا، ان کے اپنے جیون ساتھی کے تعلقات بڑی حد تک بہتر پائے گئے، ان میں ڈپریشن اور انگزائٹی کی شرح کافی حد تک کم پائی گئی۔جبکہ وہ اندرونی یا بیرونی جسمانی حالات میں کسی قسم کی تبدیلی پر جسمانی طور پر ملنے والے اشاروں کو سمجھنے میں کافی بہتر رہیں۔ اس کے علاوہ ان کا اپنے پیٹ میں موجود بچے کے ساتھ زیادہ مثبت تعلق بھی پایا گیا۔دوسری طرف وہ خواتین جو حمل کے دوران اپنی ظاہری جسمانی ساخت کو لے کر منفی احساسات رکھتی تھیں، انہیں حمل کے دوران اضافی جذباتی سہارے کی ضرورت لاحق ہوئی اور اس کے ساتھ ساتھ بچے کی پیدائش کے بعد پوسٹ نیٹل ڈپریشن (یہ ایک قسم کا ڈپریشن ہے جس کا سامنا والدین کو بچے کی پیدائش کے بعد ہوتا ہے) کی علامات کے لیے مانیٹرینگ مطلوب ہوتی ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…