پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

سمندروں میں پلاسٹک کے ٹکڑے اب آلودگی کے گڑھ بن رہے ہیں : رپورٹ

datetime 29  مئی‬‮  2019 |

برازیل(این این آئی) پانچ ملی میٹر سے کم جسامت کے پلاسٹک کے باریک ٹکڑے اس وقت ساحلوں اور سمندروں میں کروڑوں اربوں کی تعداد میں موجود ہیں اور اب وہ گرد، آلودگی اور بیماری پیدا کرنے والے اجزا کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاکر انسانوں اور سمندری جانداروں کے لیے شدید خطرہ بن چکے ہیں۔برازیل کی یونیورسٹی آف ساؤ پالو میں واقع اوشیانوگرافک انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ ماہر

الیگزینڈر ٹیورا کہتے ہیں کہ پلاسٹک کے باریک ٹکڑے اب گردوغبار، نامیاتی مرکبات اور دیگر مضر کیمیکل کے لیے ایک فوم بن چکے ہیں جن میں یہ جذب ہوکر لہروں کے دوش پر دور دور تک جارہے ہیں اور یوں بحری حیات کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔پلاسٹک کے یہ ٹکڑے پرانے کپڑوں، سمندری جالوں، پلاسٹک بیگ، ٹائروں اور ساحلوں پر پھینکے جانے والے کوڑا کرکٹ سے وجود میں آتے ہیں۔ سمندر میں باہمی ٹکراؤ سے یہ باریک ٹکڑوں میں تقسیم ہوتے رہتے ہیں اور اب خبر یہ ہے کہ ان سے مضر کیمیکل اور مرکبات چپک کر دور دور تک پھیل رہے ہیں۔برازیلی ماہرین نے جنوبی برازیل میں ساحل سے 39 کلومیٹر کی دوری تک مائیکروپلاسٹک جمع کیا ہے۔ انہوں نے دیکھا کہ اس پلاسٹک سے نامیاتی مرکبات بھی چپکے ہوئے ہیں جن میں پولی کلورنیٹیڈ بائی فینائلز (پی سی بی) اور پولی سائیکلک ایئرومیٹک ہائیڈروکاربنز (پی اے ایچ) بھی شامل تھے۔ یہ آلودگی سمندروں میں تیل نکالنے اور اس کی نقل و حمل سے پیدا ہوئی ہے۔ماہرین کہتے ہیں کہ یہ آلودگی خود انسانوں اور جانوروں کے جسمانی، اعصابی اور ہارمون نظام کو شدید متاثر کرسکتی ہے۔ اس طرح اب پلاسٹک کے ٹکڑے تیرتے ہوئے اسفنج بن چکے ہیں جو سمندری حیات کو شدید متاثر کرسکتی ہیں۔ خطرناک بات یہ ہیکہ اگر جاندار انہیں نگل لے تو یہ ان کی غذائی زنجیر کا حصہ بن کر ایک جانور سے دوسرے میں منتقل ہوتے رہتے ہیں یہاں تک کہ مچھلیوں اور جھینگوں کے ذریعے انسانوں میں بھی منتقل ہوسکتے ہیں۔ماہرین نے کہا ہے کہ ہر سال سمندروں میں 80 لاکھ ٹن پلاسٹک پھینکا جارہا ہے۔ یہ پلاسٹک دنیا کے 10 بڑے دریاؤں سے سمندروں میں جارہا ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…