اتوار‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2025 

امریکامیں پہلی مرتبہ انسانی تاریخ کی مہنگی ترین دوائی کے استعمال کی اجازت،قیمت جان کر آپ کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائینگی

datetime 25  مئی‬‮  2019
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

واشنگٹن(این این آئی )امریکا کی فوڈ اینڈ ڈرگز ایڈمنسٹریشن نے انسانی تاریخ کی مہنگی ترین دوائی کے استعمال کی اجازت دے دی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق بچوں کی کمر کے پٹھوں میں پیدا ہونے والی ‘زولجنسما’ نامی بیماری

کے ایک دفعہ علاج پر کم سے کم 21 لاکھ 25 ہزار ڈالر کے برابر رقم خرچ کرنا پڑے گی۔ اس اعتبار سے یہ انسانی تاریخ کی مہنگی ترین دوائی قرار دی جاتی ہے۔دنیا کی یہ مہنگی ترین دوائی شیر خوار بچوں کے پٹھوں میں پیدا ہونے والے ایک خلل کو دور کرنے کے لیے استعمال کی جائے گی۔ یہ عارضہ لاحق ہونے کے بعد دو سال سے کم عرصے کے دوران مریض کو موت کے منہ میں لے جاتا ہے۔زولجنسما نامی بیماری کی بیش قیمت دوائی امریکی میڈیسن کمپنی نوفارٹز نے تیار کی ہے جس کی مالیت 21 لاکھ 25 ہزار ڈالر ہے۔امریکا میں مذکورہ بیماری کا ہر سال شکار ہونے والے بچوں کی تعداد 400 ہے۔ یہ دوائی دو سال سے کم عمر بچوں کو ہفتے میں دوبار دی جاسکے گی۔مہنگی دوائی تیار کرنے والی کمپنی نوفارٹز کا کہنا تھا کہ وہ دوائی کو انشورینس کمپنیوں کے ذریعے صارفین تک پہنچانے کی سہولت مہیا کرے گی۔ کمپنی کی طرف سے دوائی کی باقاعدہ گارنٹی دی جائے گی اور اثر نہ کرنے پر رقم واپس کی جا سکے گی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پروفیسر غنی جاوید


’’اوئے انچارج صاحب اوپر دیکھو‘‘ آواز بھاری…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مہینہ شروع ہو چکا ہے‘ اس مہینے…

سپنچ پارکس

کوپن ہیگن میں بارش شروع ہوئی اور پھر اس نے رکنے…

ریکوڈک

’’تمہارا حلق سونے کی کان ہے لیکن تم سڑک پر بھیک…

خوشی کا پہلا میوزیم

ڈاکٹر گونتھروان ہیگنز (Gunther Von Hagens) نیدر لینڈ سے…

اور پھر سب کھڑے ہو گئے

خاتون ایوارڈ لے کر پلٹی تو ہال میں موجود دو خواتین…

وین لو۔۔ژی تھرون

وین لو نیدر لینڈ کا چھوٹا سا خاموش قصبہ ہے‘ جرمنی…

شیلا کے ساتھ دو گھنٹے

شیلا سوئٹزر لینڈ میں جرمنی کے بارڈرپر میس پراچ(Maisprach)میں…

بابا جی سرکار کا بیٹا

حافظ صاحب کے ساتھ میرا تعارف چھ سال کی عمر میں…

سوئس سسٹم

سوئٹزر لینڈ کا نظام تعلیم باقی دنیا سے مختلف…

انٹرلاکن میں ایک دن

ہم مورج سے ایک دن کے لیے انٹرلاکن چلے گئے‘ انٹرلاکن…