پولیو وائرس نے پاکستانیوں کو بری طرح جکڑ لیا، مزید کتنے کیسز سامنے آگئے؟حکومتی کوششیں دھری کی دھری رہ گئیں

  ہفتہ‬‮ 11 مئی‬‮‬‮ 2019  |  15:19

اسلام آباد (این این آئی)خیبر پختونخوا سے 2 مزید پولیو کیسز کی تصدیق کے بعد رواں سال سامنے آنے والے پولیو کیسز کی مجموعی تعداد 15 تک پہنچ گئی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق قومی ادارہ صحت میں قائم پولیو کے وائرس کی تشخیص کرنے والی لیبارٹری نے اس بات کی تصدیق کیکہ پولیو کے 2 نئے کیسز خیبرپختونخوا کے علاقے بنوں میں سامنے آئے۔اس ضمن میں ایک عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ وائرس سے متاثر ہونے والی ایک بچی کی عمر 6 ماہ ہے جس کے نمونے 18 اپریل کو لیے گئے تھے اور جب


وائرس سامنے آنے کیلئے درکار 3 ہفتے پورے ہوئے تو اس بات کی تصدیق ہوگئی کہ بچی پولیو وائرس سے معذور ہوچکی ہے۔دوسری جانب ایک 8 ماہ کے بچے کے بھی پولیو سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی جس کے نمونے 26 اپریل کو لیے گئے تھے۔خیال رہے کہ اب تک ملک میں پولیو سے متاثر ہونے کے 15 کیسز کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ گزشتہ برس پولیو کے 12 کیسز سامنے آئے تھے اور سال 2017 کے دوران یہ تعداد محض 8 تھی۔رواں سال سامنے آنے والے کیسز کو علاقوں کے اعتبار سے دیکھا جائے تو 6 کیسز صرف خیبرپختونخوا، 4 قبائلی اضلاع، 3 پنجاب اور 2 کیسز سندھ میں رپورٹ ہوئے ۔اس وقت دنیا میں صرف 2 ممالک پاکستان اور افغانستان ایسے ملک ہیں جہاں اب تک پولیو کا مرض مکمل طور پر ختم نہیں ہوسکا۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

استنبول یا دہلی ماڈل

میاں نواز شریف کے پاس دو آپشن ہیں‘ استنبول یا دہلی‘ ہم ان آپشنز کو ترکی یا انڈین ماڈل بھی کہہ سکتے ہیں۔ہم پہلے ترکی ماڈل کی طرف آتے ہیں‘ رجب طیب اردگان 1954ء میں استنبول میں قاسم پاشا کے علاقے میں پیدا ہوئے‘ غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے‘ سکول سے واپسی پر گلیوں میں شربت بیچتے تھے‘بڑی مشکل ....مزید پڑھئے‎

میاں نواز شریف کے پاس دو آپشن ہیں‘ استنبول یا دہلی‘ ہم ان آپشنز کو ترکی یا انڈین ماڈل بھی کہہ سکتے ہیں۔ہم پہلے ترکی ماڈل کی طرف آتے ہیں‘ رجب طیب اردگان 1954ء میں استنبول میں قاسم پاشا کے علاقے میں پیدا ہوئے‘ غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے‘ سکول سے واپسی پر گلیوں میں شربت بیچتے تھے‘بڑی مشکل ....مزید پڑھئے‎